کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی چیرپرسن بانک کریمہ بلوچ نے آئی ایس پی آر کی جانب سے شائع کی جانے والی انڈین شہری بھوشن یادیو کی ویڈیو بیان میں بلوچ طلبا سے روابط و انڈین خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ کی جانب سے امداد کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک عرصے سے اپنی قبضہ گیریت کے خلاف چلنے والی بلوچ تحریک کو غلط رنگ میں پیش کرنے کے لئے اپنے حریف ممالک پر الزامات لگارہی ہے، تاکہ1948سے جاری بلوچ آزادی کی جنگ کو عالمی طاقتوں کی پراکسی ثابت کر کے رائے عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔ کریمہ بلوچ نے کہا مبینہ انڈین شہری کی گرفتاری و اس سے اپنی مرضی کے مطابق باتیں کہلواکر پاکستان اسے خصوصی طور پر اپنے حریف ملک انڈیا پر اثر انداز ہونے اور بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے ، پاکستان ایک طرف خاص منصوبے کے تحت بلوچ تحریک کے خلاف بیرونی روابط کی اپنے سابقہ تمام الزامات میں عالمی سطح پر ثبوت فراہم کرنے میں ناکامی کی شرمندگی کو مٹانے کے لئے ایسے خودساختہ کرداروں کی میڈیا کے ذریعے بھرپور تشہیر کررہی ہے ۔تو دوسری طرف بلوچستان میں سرمایہ کار کمپنیوں کے اعتماد کی بحالی کے لئے بلوچ تحریک کی تاریخی پس منظر کو چھپانے اور اسے پراکسی ثابت کرنے کی کوششیں کررہی ہے ۔کریمہ بلوچ نے کہا کہ کسی بیرونی ممالک و خطہ سے زیادہ بلوچستان میں ہونے والی سرمایہ کاریوں سے خود بلوچ عوام کی وجود کو خطرہ ہے۔ اس لئے بلوچ عوام آزادی سے پہلے کسی طاقت کو بلوچستان میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا کہ مزکورہ شخص کے منہ سے بلوچ طلباء سے روابط کے ٹھونسے ہوئے الفاظ کے دہرانے کا مقصد سینکڑوں بلوچ طلباء کی فورسز کے ہاتھوں اغواء و شہادت سمیت بلوچستان میں براہ راست
فورسز کے ہاتھوں ہونے والی قتل عام اور ان کی تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ ز کے مظالم پر پردہ ڈالنا ہے، بلوچستان سے اجتماعی قبروں کی برآمدگی، خواتین و بچوں کی شہادت اور ہزاروں افراد کو لاپتہ رکھنے کے بعد قتل جیسے نسل کشی کی کاروائیوں پر تنقید سے بچنے کے لئے قابض ریاست اس طرح کے خود ساختہ ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہی ہے۔کریمہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان بلوچستان پر اپنے غیرفطری قبضے کو دیگر ممالک پر الزام تراشیوں سے قانونی ثابت نہیں کرسکتا، کیوں کہ پاکستان بننے سے قبل بلوچستان عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ ریاست تھی جس پر پاکستان نے 1948کو زبردستی قبضہ کرلیا ۔ اپنے کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے ریاستی فورسز بلوچ عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کو جوا ز فراہم کرنے کے لئے ڈرامہ بازی کر سکتے ہیں لیکن یہ ڈرامہ بازی بلوچستان پر پاکستانی قبضے کوکوئی جواز فراہم نہیں کرسکتا ۔انہوں نے مزید کہا کہ مزکورہ شخص کے ذریعے بی ایس او کا نام لیکر پاکستان بلوچ عوام باالخصوص طلباء کے خلاف پہلے سے جاری کاروائیوں میں زبردست شدت لانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ مستقبل قریب میں اپنی ممکنہ کاروائیوں کو انڈین ایجنسیز کے خلاف کاروائی کہہ کر رائے عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔


