کوئٹہ(ہمگام نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ نے مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کر لی بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بلوچ سرمچاروں نے جمعرات کو تمپ آسیا باد میں فورسز کی چوکی پر دو اطراف سے خود کارو بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا حملے میں فورسز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا حملے کے بعدفورسز نے عام آبادی پر فائرنگ کرکے ایک شہری کو زخمی کیا جبکہ کچھ آلہ کاروں نے سرمچاروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی ان کی بہت پہلے نشاندہی ہو چکی ہے انہیں ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ سرمچاروں کو روک کر فورسز کے آنے کا انتظار کریں اسی طرح فورسز کے قریب آنے کی صورت میں ہمیں مجبوراََ گولی چلانا پڑی تنبیہ کے طور پر بلوچ ہونے کے ناطے انہیں پاؤں میں گولی مار کر زخمی کیا مگر انہیں خبردار کرتے ہیں کہ وہ آئندہ سرمچاروں کا راستہ روکنے کی کوشش نہ کریں ترجمان نے کہا کہ بدھ کو گیشکورفورسز کے کیمپ کی چوکی پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا کل رات ایک دفعہ پھر گیشکور میں فورسز کے کیمپ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا بدھ 10 اگست کو آواران کولواہ کے علاقے بزداد میں فورسز کے لدھ کیمپ پر بھی حملہ کیا کل رات ہی دشت بل نگور کیمپ پر 2 راکٹ داغے جو کیمپ میں جاکر گرے بدھ ہی کے روز جھاؤ کے علاقے نوندڑہ میں ڈھل شہر کے مقام پرفورسز کے قافلے پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیافورسز جھاؤ کورک میں فورسزکی کارروائی اور عام آبادی پر تشدد کے بعد واپس آرہی تھیں حملہ مغرب کے وقت ہوا09 اگست کی شام دشت میں فورسز کی درچکو کیمپ پر حملہ کیا ان حملوں میں فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا یہ حملے سرزمین کی آزادی تک جاری رہیں گے گہرام بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فورسز14 اگست کے دن جشن منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور عام لوگوں کو زبردستی شرکت کیلئے مجبور کیا جا رہاہے بلوچستان میں ریاستی مظالم کا بلوچ قوم کو اچھی طرح خبر ہے سرمچارفورسز کی جانب سے جشن منانے کی صورت میں تقریبات پر حملے کریں گے لہٰذا لوگوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ فورسز کی گشت، فورسز کی گاڑیوں ، کیمپ اور چوکیوں سے دور رہیں تاہم دوسری جانب فورسز پرحملوں اور اہلکاروں کی ہلاکت سے متعلق سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی ۔


