کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے اپنے پریس ریلیز میں بی ایچ آر او کے چیئرپرسن بی بی گُل بلوچ کی گھروں کو جلانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح فورسز نے تمپ کے علاقے گومازی کو گھیرے میں لیکر لوٹ مار و لوگوں پر تشدد کے بعد بی بی گُل بلوچ سمیت متعدد لوگوں کے گھروں کو نظر آتش کردیا۔ جبکہ دورانِ آپریشن ایک نہتے نوجوان کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک درجن کے قریب لوگوں کو فورسز اپنے ساتھ لے گئے۔ ترجمان نے کہا کہ فورسز کی تشدد کے ذریعے سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے محافظ کارکنوں کو بھی ڈرا دھمکا کر بلوچستان کی صورت حال کو میڈیا سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں تک پہنچانے سے روکنے کی کوششیں کررہے ہیں ۔بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے چیئرپرسن بی بی گل بلوچ کے گھروں کو جلانا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ بی ایچ آر او کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں شدت پسندی کے خلاف آپریشن کے نام پر فورسز عام آبادیوں کو بے دردی سے نشانہ بنارہے ہیں۔ لوگوں کے گھروں میں گھس کر چاردیواری کی تقدس کو پامال کرنے کے ساتھ ساتھ بغیر مقدمات کے لوگوں کو اغواء کرنا روز کا معمول بن چکے ہیں۔ جبکہ انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ فورسز مغویوں کی نہ صرف اغواء سے لاتعلق ہوجاتے ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر مغویان کی تشدد زدہ لاشیں ویرانوں سے ملتی ہیں۔ ریاستی طاقت کا نہتے لوگوں کے خلاف استعمال کرنے کی وجہ سے لوگ شدید خوف و حراس کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیوں کہ فورسز کے اہلکار انسانی حقوق و جنگی قوانین کا احترام کیے بغیر عام آبادیوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سنگین صورت حال پر انسانی حقوق کے تنظیموں کی خاموشی حیران کن ہے، کیوں کہ مذکورہ اداروں کی خاموشی کو فورسز اپنی خاموش حمایت سمجھ کر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دنوں گریشہ، مشکے اور خارا ن میں دورانِ آپریشن فورسز کئی نے لوگوں کو گرفتار کیا جو کہ تاحال ان کی تحویل میں ہیں۔انسانی حقوق کے معتبر اداروں کی خاموشی بلوچستان سے اغواء ہونے والے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو مزید خطرات میں ڈال رہی ہیں


