(ہمگام ویب نیوز ) مائی کلاچی کے شہر کراچی میں نامعلوم افراد نے سید ظہور شاہ ہاشمی ریفرنس لائبریری کا تالہ توڑ کر وہاں توڑ پھوڑ کی ۔
اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے ملیر میں واقع سید ظہور شاہ ہاشمی ریفرنس لائبریری کے تالے توڑ کر نامعلوم افراد نے کمپیوٹرز کا ریکارڈ اور دیگر اشیاء بھی اٹھا کراپنے ساتھ لے گئے ۔
بلوچستان کے مختلف سیاسی و سماجی حلقوں اور طالب علموں نے اس علم دشمنی قوم دشمنی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
جبکہ اس سے قبل بھی سید ہاشمی لائبریری پر حملہ کیا جا چکا ہے ۔خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بلوچستان اور بلوچ سے متعلق اس طرح علم دشمنی کے پیچھے یعقینی طور پر ریاستی منصوبہ بندی شامل عمل ہوسکتا ہے۔اسی طرح آج بلوچ قوم کے ساتھ ریاستی طاقت اور منصوبہ بندی سے ہر سطح پر اس قسم کی دشمنی کا عمل ہورہا ہے۔ تعلیمی اداروں پر اس طرح کے حملوں میں ریاست ہی کے پالتو اور کرایہ کے لوگ ہی ملوث ہو سکتے ہیں۔تاکہ بلوچ قوم کو اس کے زبان ،تاریخ،جغرافیہ،سابقہ آزاد اور موجودہ مقبوضہ ریاست کی تاریخ اور قوم کو اس کی کلچر ،رسم و رواج اور نئی نسل کو ان سب کے مطالعہ سے سے دور رکھا جائے۔


