تربت (ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے علاقے تمپ سے قابض پاکستانی فوج نے 2فروری 2018 کو
15 سالہ کمسن ساجد ولد واحد رہائشی تمپ کوہاڑ گزشتہ مہینے تربت سٹی سے قابض پاکستانی فوج اور خفیہ ادارہ آئی- ایس- آئی والوں نے جبری اور ماورائے قانون گرفتار کرکے اغوا کیا تها۔ یاد رہے کہ قابض پاکستانی فوج نے کئی کمسن و نابالغ بچوں کو جبری اغوا کر کے فوجی کیمپوں کے کالی کوٹھڑیوں میں منتقل کردیا ہے ۔یاد رہے گزشتہ دنوں مکران ہی میں کمسن عاصم امین کو قابض پاکستانی فوج نے اغوا کیا تها جو تاحال بازیاب یا منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔اس اہم انسانی حقوق کے مسئلے کو تمام بشر دوست سماجی اور سیاسی کارکن بلوچستان سے جبری اغوا شدہ بلوچ اسیران کو منظر عام پر لانے کیلئے سوشل میڈیا میں آگاہی مہم چلاکر پاکستانی فوج کی غیر انسانی مظالم کو دنیا کے سامنے آشکار کیا جائے تاکہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی اس طرح سے پامالی نہ کرکسے ۔جہاں ایک دھائی سے زائد عرصے سے انسانی حقوق کی شدید پامالی ہورہی ہے۔حالیہ کچھ عرصے سے پورے بلوچستان سے بالعموم اور مکران سے بالخصوص جبری اغوا کاریوں کا سلسلہ وسعت اختیار کرکے اس میں شدت لائی گئی ہے۔


