کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں تونسہ شریف میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلباء پر پولیس کی جانب سے تشدد کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کے پرامن احتجاجی مظاہرے پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج تشویشناک عمل ہے. نہتے اور پرامن طالبعلموں پر طاقت کا استعمال کیا گیا جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں.ل۔
انھوں نے کہا کہ تونسہ شریف کے طالبعلم جمہوری طریقہ کار اپناتے ہوئے جائز مطالبات کے حق میں پر امن احتجاج ریکارڈ کرارہے تھے کہ ضلعی انتظامیہ نے طلباء کے مطالبات سننے کی بجائے ان کے ساتھ پر تشدد رویہ اختیار کیا اور طالبعلموں پر لاٹھی چارج کیا جس سے کئی طالبعلم زخمی ہوئے جبکہ درجنوں طالبعلموں کو گرفتار بھی کیا گیا. مطالبات کے حق میں پر امن احتجاج کرنے والے طلباء کے ساتھ پرتشدد رویہ نہایت تشویشناک ہے اور اس طرح کے عمل تعلیم دشمن پالیسی کے زمرے میں آتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ عالمی وباء کرونا کے باعث جہاں پورے ملک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیمی نظام تعطل کا شکار ہے تو وہیں اسکولز اور کالجز بند ہونے کے باعث میٹرک اورانٹرمیڈیٹ کے طلباء بھی سال بھر کلاسز نہ لے سکے. امید یہی کیا جارہا تھا کہ تعلیمی ادارے بند ہونے کے سبب طلباء کو امتحانات میں میں خصوصی رعایت دی جائے گی اور تیاری کےلیے طلباء کو مزید وقت بھی دیا جائے گا لیکن پنجاب حکومت نے تعلیمی ادارے کھولنے کے ساتھ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلباء سے بروقت امتحانات لینے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے طلباء میں شدید تشویش پایا جاتا ہے. امتحانات کےلیے مزید وقت کی مہلت کا مطالبہ اٹھائے پورے ملک میں طلباء سراپا احتجاج کررہے ہیں. جہاں ملک کے دیگر شہروں میں طلبا سراپا احتجاج ہیں وہیں تونسہ شریف کے طالبعلموں کو تشدد کا نشانہ بنانا طالبعلموں میں خوف و ہراس پھیلا کر مطالبات سے دستبردار کرنے کے مترادف ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں انھوں نے تونسہ شریف کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہارِ کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ جلد ازجلد طلباء کے مطالبات پر غور کرکے طلباء کو امتحانات میں تیاری کےلیے مزید وقت دیا جایے تاکہ طلباء کا مستقبل محفوظ ہوسکے. طلبا پر تشدد اور مطالبات کی منظوری کےلیے 31 مئی کو طلباء کی جانب سے ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف میں احتجاج کیا جائے گا جس کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہیں.


