تہران(ہمگام نیوزڈیسک) پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا ایران کے صدارتی محل سعد آباد پیلس پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔سعد آباد پیلس پہنچنے پر ایرانی صدر حسن روحانی نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا جہاں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور وزیراعظم عمران خان نے گارڈ آف آنر کا بھی معائنہ کیا۔جبکہ عمران خان کے ہمراہ پاکستانی وفد میں وفاقی وزراء شیریں مزاری، علی حیدر زیدی اور دیگر ایران کے دورے پر ہیں۔ وزیراعظم عمران خان تہران میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی سے بھی ملاقات کرینگے۔واضع رہے چند روز قبل بلوچ مزاحمتکاروں نے بلوچستان کے ساحلی بیلٹ مکران اورماڑہ میں قابض پاکستانی فورسز پر حملہ کرکے 14 فوجیوں کوہلاک کیا تھا،جس کے بعد پاکستانی وزیرخارجہ نے الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچ مزاحمتکاروں کو ایران کی طرف سے مدد دی گئی ہیں۔یاد رہے اسی طرح کے الزامات کچھ ہفتے قبل ایران کی طرف سےپاکستان پر بھی اس وقت لگائے گئے تھے ،جب مقبوضہ مغربی بلوچستان کے شہر خاش زاھدان کے قریب ایرانی پاسداران انقلاب پر ایک جان لیوا خودکش حملہ ہوا تھا۔جس میں کئی درج ایرانی فوجی جہنم واصل ہوگئے تھے۔اور اس حملے کی زمہ داری مغربی مقبوضہ بلوچستان میں متحرک مسلح تنظیم جیش العدل مے قبول کی تھی۔بلوچ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران و پاکستان علاقائی و عالمی سیاسی حالات سے چاہے جس طرح بھی متاثر ہو،لیکن بلوچ دشمنی میں قابض ایران و پاکستان کا ایجنڈا ماضی کی طرح آج بھی مشترک ہیں۔جس کی واضع ثبوت چند روز قبل پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ہم بلوچ مسلح حملہ آوروں کے حوالے کافی عرصہ سے مسلسل روزانہ کی بنیاد پر دو طرفہ مشترکہ انٹیلیجنس شیئرنگ کررہے ہیں۔


