تیونس کے کوسٹ گارڈز نے یورپ آنے والے 267 تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچا لیا.
بنقردان(ہمگام نیوز)مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق تیونس کے کوسٹ گارڈز نے یورپ آنے والے سینکڑوں تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچا لیا۔کشتی میں سوار مہاجرین میں اکثریت بنگلہ دیشی باشندوں کی تھی۔
تیونس کے ساحلی محافظوں نے بتایا ہے کہ جمعرات کو یورپ کی طرف بڑھنے والی ایک کشتی میں شگاف پڑ جانے کے سبب اس کے ڈوبنے کے خطرات بہت زیادہ تھے تاہم کوسٹل گارڈز کشتی پر سوار 267 مہاجرین کو بچانے میں کامیاب ہو گئے۔
خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق کشتی میں سوار مہاجرین میں اکثریت بنگلہ دیشی باشندوں کی تھی۔ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے خوف میں گرفتار ان مہاجرین کو تیونس کے ساحلی علاقے بنقردان پہنچا دیا گیا۔
میڈیا زرائع کے مطابق تیونس کے جنوبی صوبے مدنین میں ریڈ کراس کے سربراہ منجی سلیم نے خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ تیونس کے ساحل پر کسی ایک ‘ریسکیو آپریشن‘ میں بچائے جانے والے مہاجرین کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ انسانی خدمت پر مامور اس تنظیم کے مطابق کشتی پر سوار مہاجرین میں 264 بنگلہ دیشی اور تین مصری تھے۔ منجی سلیم کے بقول غالباً یورپ آنے کی کوشش کرنے والے یہ مہاجرین لیبیا کے شہر زوارۃ سے کشتی پر سوار ہوئے تھے۔


