چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںجلال آباد میں خود کش حملہ، 16افرادجانبحق

جلال آباد میں خود کش حملہ، 16افرادجانبحق

جلال آباد(ہمگام نیوزڈیسک) میڈیا اطلاعات کے مطابق ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں بدھ کی صبح حملے کا آغاز اس وقت ہوا جب دو زوردار دھماکوں سے پورا شہر لرز اٹھا اور اس کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان جھڑپ کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا۔صوبائی حکومت کے ترجمان عطااللہ خوگیانی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں تعمیراتی کمپنی کے 16ملازم ہلاک ہو گئے جبکہ ایک دوسرے آفیشل نے ہلاکتوں کی تصدیق سے انکار کردیا۔

خوگیانی نے کہا کہ حملہ کرنے والے پانچوں شدت پسند بھی مارے گئے جبکہ حملہ آوروں کی خود کش جیکٹ، گاڑی میں لگائے گئے بم اور دیگر کو ناکارہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ننگرہار کی صوبائی کونسل کے رکن زبیح اللہ ازماری نے بتایا کہ مسلح خودکش بمبار نے حملہ کیا اور صبح سویرے نجی تعمیراتی کمپنی کی عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا جس کے نتیجے میں کمپنی میں ملازمت کرنے والے متعدد شہری مارے گئے۔

ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمے داری تو قبول نہیں کی گئی لیکن ننگرہار میں داعش اور طالبان دونوں بہت متحرک ہیں۔

یہ دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا جب افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور افغان امن عمل کے سلسلے میں امریکا اور طالبان کے درمیان قطر میں مذاکرات جاری ہیں۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان روبرٹ پلاڈینو نے منگل کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر دو دن کے وقفے کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور اس میں پیشرفت ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ اس حملے سے چند دن قبل ہی مذاکراتی عمل کے دوران ولایت ہلمند میں امریکا اور افغانستان کے مشترکہ فوجی اڈے پر حملے میں سیکیورٹی فورسز کے کم از کم 23اہلکار جانبحق اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

افغانستان میں شدید سردی اور برف باری کے سبب حملوں کی رفتار اور پرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے لیکن سردی کی شدت میں کمی اور موسم بہار شروع ہونے کے ساتھ ہی حملوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز