شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںجمعہِ خونی ایرانی قابض ریاست کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی کی ایک...

جمعہِ خونی ایرانی قابض ریاست کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی کی ایک اور خونچکاں قسط۔ (شہدا زاھدان کے تیسری برسی کے موقع پر فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے پمفلٹ تقسیم کیا گیا)

فری بلوچستان موومنٹ کے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے شائع کردہ اس پمفلٹ کا مقصد ایرانی قابض ریاست کی طرف سے گزشتہ سو سالوں کے قبضہ گیریت کے دوران بلوچ نسل کشی کے مختلف طریقوں اور وارداتوں پر توجہ مبذول کروانا ہے، اس مسلسل بلوچ قوم کی نسل کشی کا تازہ ترین اور منظم واقعہ “ جمعہ خونی “ ہے۔

تیس ستمبر 2022 کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر زاھدان میں پیش آنے والا واقعہ انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے، جہاں قابض ایرانی ریاست نے مکی مسجد کے اندر نمازِ جمعہ کے فوراً بعد پُرامن احتجاج کرنے والے نہتے بلوچوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ بلوچ شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

اس دن کو بلوچ سیاسی و سماجی حلقے “جمعہ خونی” یا Bloody Friday کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ سانحہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ جاری نسل کش پالیسییوں کی ایک کھلی علامت ہے۔

 

*پس منظر: ایک بیٹی کی چیخ، ایک قوم کا ماتم*

اس احتجاج کا پس منظر ایک ایرانی ریاستی اہلکار کی جانب سے پندرہ سالہ بلوچ بچی ماہو بلوچ کی عصمت دری تھی، ایک ایسا جرم جو نہ صرف انسانی ضمیر بلکہ بین الاقوامی قوانین کے ہر اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مگر جب ایک قوم مقبوضہ ہو، اسے فیصلہ سازی کا اختیار نہ ہو، اس کی شناخت جرم ٹھہرائی جائے، اور اس کی سرزمین کو نوآبادیاتی انداز میں کچلا جا رہا ہو، وہاں انصاف کی امید رکھنے والے لوگ خود ایک سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔

*ریاستی بیانیہ اور جبر کی سیاست*

ایرانی قابض ریاست بلوچ عوام کی صدائے احتجاج کو دبانے کے لیے روایتی کالونیل ہتھکنڈے اپناتی آئی ہے کبھی منشیات فروشی کا لیبل لگا کر ہزاروں بلوچ نوجوانوں کو پھانسی دی جاتی ہے، کبھی “قومی سلامتی” کے نام پر سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنان کو لاپتہ کیا جاتا ہے۔ پیٹ کے آگ کو بجانے کی لئیے تیل کے کاروبار کرنے والے “ سوخت بران “ کو انکے گاڑیوں سمیت جلایا جاتا ہے، درندگی کی ایسی داستانیں کہ انسانیت بھی شرمسار ہو، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ بارہا ایرانی قابض ریاست کی بلوچ دشمن پالیسیوں پر تنقید کر چکی ہیں، مگر قابض ریاست بے خوفی سے اپنی پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

*معاشی استحصال، ثقافتی نسل کشی*

بلوچستان نہ صرف قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے بلکہ جغرافیائی لحاظ سے بھی اس کی حیثیت اس خطے کے لیے مرکزی ہے۔ مگر ایرانی قابض ریاست تاریخی طور پر ان نوآبادیاتی طرز عمل پر گامزن ہے جہاں محض مقبوضہ قوم کے وسائل کو لوٹا جاتا ہے اور انکو معاشی، سیاسی اور ثقافتی تحقیر کا نشانہ بنایا جاتا ہے، آج ہو بہو ایرانی قابض ریاست بھی ان وسائل کو بلوچ قوم کی فلاح کے بجائے تہران کے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہے۔ بلوچ عوام کو نہ روزگار کے مواقع میسر ہیں، نہ تعلیمی ادارے، اور نہ ہی صحت کی سہولیات۔ ان کی زبان، ثقافت، اور قومی شناخت کو ختم کرنے کے لیے فارسی زبان اور غیر بلوچ ثقافتی یلغار کو مسلط کیا جا رہا ہے۔ گجر اور غیر بلوچ آبادیوں کو لا کر بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔

*بلوچ مزاحمتی بیانیہ: غلامی نامنظور*

بلوچ قوم نے ہمیشہ اپنی آزادی، شناخت اور خودداری کی جنگ لڑی ہے۔ چاہے وہ خانانِ بلوچ کی بغاوت ہو، انقلابی طلباء کی تحریکیں ہوں یا آج کے نوجوانوں کی مزاحمت، بلوچ قوم ہر دور میں قابض قوتوں کے خلاف سینہ سپر رہی ہے۔ جمعہ خونی بھی اسی مزاحمت کی ایک قسط ہے، جہاں ایک مسجد کو میدان جنگ بنایا گیا، عام بلوچوں کو نشانہ بنایا گیا، اور انسانیت کو خون میں نہلا دیا گیا۔

*بین الاقوامی برادری کی خاموشی: مجرمانہ غفلت*

ایران میں بلوچوں پر ہونے والے مظالم پر بین الاقوامی برادری کی خاموشی نہ صرف شرمناک ہے بلکہ مظلوموں کے خلاف ایک طرح کی شراکت داری بن چکی ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور دیگر عالمی ادارے بلوچ نسل کشی پر لب کشائی سے گریزاں ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف عالمی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ ظالم کو مزید حوصلہ دیتا ہے۔

*نوآبادیاتی قبضے کا خاتمہ: واحد حل*

ایرانی ریاست بلوچستان پر ایک نوآبادیاتی قابض قوت ہے، جو بلوچ عوام کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقوق کو غصب کیے ہوئے ہے۔ اس کا حل اصلاحات یا جزوی خودمختاری نہیں، بلکہ مکمل آزادی اور فیصلہ سازی میں خود مختار ہونا ہے۔ بلوچ قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زمین، وسائل، ثقافت اور مستقبل پر خود اختیار رکھے۔

*اصولوں کی پاسداری*

فری بلوچستان موومنٹ بلوچ قومی جہدِ آجوئی کے تقاضوں، اصولوں اور آدرشوں کو باقی دیگر تمام عوامل پر مقدم سمجھتی ہے کیونکہ تحریکی تقاضوں کے سامنے ہٹ دھرمی، اصولوں سے انحراف اور آدرشوں کی پائمالی محض انتشار کو جنم دیتی ہے اور جہد آجوئی کی کوئی تحریک ہو، کہیں پر بھی ہو اور کسی بھی قوم کی ہو جد وجہد کی کامیابی اکھٹ اور ہم آہنگی میں ہے اور انتشار ناکامیوں کا بنیادی مسبب الاسباب ہے، فری بلوچستان موومنٹ کا یہ بنیادی نظریہ ہے کہ

ناکامی سے بچنا ہے تو انتشار سے بچئیے

انتشار سے بچنا ہے تو بے اصولی سے بچئیے

اور اگر بے اصولیوں سے بچنا ہے تو تحریکی تقاضوں کے سامنے سرِتسلیم خم کیجئے۔

*نتیجہ: جمعہ خونی، ایک یاد دہانی*

جمعہ خونی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزادی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے، جب تک ایک قوم اپنی شناخت، زمین اور زبان پر مکمل اختیار حاصل نہیں کرتی، اس کی بقا داؤ پر لگی رہتی ہے۔ زاھدان کی سڑکوں پر بہایا گیا خون صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک اعلان ہے کہ بلوچ قوم اپنی آخری سانس تک غلامی کے خلاف برسرپیکار رہے گی۔

آزادی ایک حق ہے، جرم نہیں۔ جبر کے خلاف مزاحمت ایک فطری ردعمل ہے، دہشت گردی نہیں۔

منجانب: میڈیا ڈپارٹمنٹ فری بلوچستان موومنٹ

یہ بھی پڑھیں

فیچرز