جینیوا(ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی روسی ہم منصب ولادی میر پوٹن سے اہم ملاقات سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں جاری ہے۔ ملاقات میں امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن اور دیگر اعلیٰ حکام بھی امریکی صدر کے ہمراہ ہیں۔
جنیوا پہنچنے پر سوئس صدر نے دونوں رہنماؤں کا استقبال کیا اور دونوں ممالک کے درمیان بامقصد اور جامع مذاکرات کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ جنیوا کو بین الااقوامی مذاکرات کے لیے تاریخی طور پر ایک غیر جانب دار مقام سمجھا جاتا ہے۔
مزید تفصیلات کے مطابق دونوں صدور اور دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ ملاقات کریں گے جس کے بعد روس اور امریکہ کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے جو چار گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے قبل میڈیا سے ابتدائی گفتگو بدنظمی کا شکار ہو گئی۔
اس دوران روسی صدر پوٹن نے کہا کہ جنابِ صدر میں آج کی ملاقات کے لیے آپ کا شکر گزار ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ ایک لمبے سفر پر ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر گزشتہ ہفتے بطور صدر اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر یورپ پہنچے تھے۔ بائیڈن نے جی سیون ممالک کے اجلاس کے علاوہ یورپی رہنماؤں اور نیٹو حکام سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔
پوٹن کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اور روس کے تعلقات میں بہت سے معاملات حل طلب ہیں اور میں اُمید کرتا ہوں کہ آج کی ملاقات نیتجہ خیز ہو گی۔
بات کے جواب میں امریکی صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ شکریہ جیسا کے میں نے باہر بات کی کہ بالمشافہ ملاقات بہتر ہوتی ہے۔
بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہل کار نے بتایا کہ اس ملاقات میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ عرصے میں پائی جانے والی کشیدگی کے تناظر میں فریقین اس ملاقات میں کسی بڑی پیش رفت کا امکان ظاہر نہیں کر رہے۔
مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے بائیڈن جنیوا پہنچے تھے جس کے بعد وہ روسی صدر کے ساتھ مذاکرات کے لیے سیاحتی مقام ولا لا گرینج پہنچے۔
امریکی صدر کے ہمراہ وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن جب کہ روسی صدر کے ہمراہ روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف کے علاوہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام موجود ہیں۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اہم سمٹ لگ بھگ کئی گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان حل طلب معاملات اور تعلقات میں پائی جانے والی سرد مہری دُور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
صدر بائیڈن جنیوا پہنچنے پر ایک صحافی نے بدھ کے مذاکرات سے متعلق پوچھا کہ کیا وہ اس کے لیے تیار ہیں؟ ان کا جواب تھا میں ہمیشہ تیار رہتا ہوں۔
امریکی نشریاتی ادارے ‘این بی سی’ کو دیے گئے انٹرویو میں بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکہ اور روس کے تعلقات حالیہ عرصے میں تاریخ کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دو طرفہ معاملات، عالمی سیاسی صورتِ حال سمیت سائبر سیکیورٹی وہ اہم معاملہ ہے جس پر امریکی حکام اس ملاقات کے دوران زیادہ زور دیں گے۔
امریکی حکام کے مطابق صدر بائیڈن کا یہ ہدف ہے کہ دونوں ممالک ایسے مواقع تلاش کریں جن کے ذریعے آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہو سکی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر روس پر یہ واضح کریں گے کہ روس کے ہر اس اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا جس سے امریکہ کی قومی سلامتی پر حرف آتا ہو۔


