یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںحب میں پرامن احتجاج پر کریک ڈاؤن شرمناک ہے، ریاست عوام...

حب میں پرامن احتجاج پر کریک ڈاؤن شرمناک ہے، ریاست عوام کو انکے بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر اور تشدد کا نشانہ بناکر خود سے بہت دور کر چکی ہے۔ بی وائی سی

شال (ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی پنجگور کے رکن ذیشان ظہیر کے ریاستی سرپرستی میں قائم ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کے خلاف حب چوکی میں ہونے والے پرامن ریلی پر حب انتظامیہ کی جانب سے کریک ڈاؤن قابل مذمت عمل ہے۔ اس ریلی میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی جن میں جبری گمشدہ افراد کے لواحقین بھی شامل تھے، ریلی کے اختتام پزیر ہوتے ہی پولیس نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ شروع کی اور پھر متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کیا۔ گرفتار شرکاء میں 4 خواتین سادیہ، ثمینہ، عسیلہ، مہتاب اور انسانی حقوق کے کارکن عبداللہ بلوچ شامل ہیں، جو 20 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود تا حال رہا نہیں ہوسکے۔

انہوں نے ڈسٹرکٹ بار کونسل کے وکلاء جب قانونی معاونت کے لیے تھانے پہنچے تو انہیں نہ صرف ملاقات سے روکا گیا بلکہ ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ خفیہ اداروں کے دباؤ میں ہیں اور زیرِ حراست افراد کی معلومات فراہم نہیں کر سکتے۔ ڈسٹرکٹ بار حب نے بھی اس غیر قانونی عمل کے خلاف بیان جاری کیا ہے، جو ریاستی اداروں کی قانون شکنی کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا حب انتظامیہ کا یہ طرز عمل نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ احتجاج مکمل طور پر پُرامن تھا، جس کے شواہد ویڈیوز اور تصاویر کی صورت میں موجود ہیں۔ ریاست کی یہ روش کہ جو بھی آئینی دائرے میں رہ کر انصاف مانگے، اسے طاقت سے دبایا جائے، ایک خطرناک پالیسی ہے جو عوام کو مزید انارکی کی جانب دھکیل سکتی ہے۔

ترجمان نے آخر میں کہا بلوچ یکجہتی کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ تمام گرفتار افراد کو فی الفور رہا کیا جائے، مظاہرین پر فائرنگ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور لاپتہ افراد کے لواحقین کو مزید ہراسانی سے محفوظ رکھا جائے۔ ہم واضع کراتے ہیں کہ آئینی جدوجہد اور انسانی وقار کا تحفظ ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور ہم ہر سطح پر اس جدوجہد میں مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز