کوئٹہ (ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ ریڈ زون دھرنے میں خاران سے لاپتہ رحیم الدین اور شاہ فہدَ کے لواحقین نے شرکت کرکے احتجاج رکارڈ کروایا ۔
لاپتہ شاہ فہد کی ہمشیرہ نادیہ بلوچ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی شاہ فہد کو ریاستی خفیہ ادارہ سی ٹی ڈی نے 16 مارچ 2022 کو خاران ہمارے گھر میں چھاپہ مار کر جبری طور پر حراست میں لینے کے بعد نامعلوم جگہ پر منتقل کرکے لاپتہ کردیا گیا ـ
ہمشیرہ شاہ فہد بلوچ نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی نے چھاپے کے دوران چادر و چاردایواری کو پامال کیا اور ہمارے گھر سے تمام نقدی اور دسرے قیمتی سامان کا صفایا کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے۔
نادیہ کا کہنا تھا کہ ہمارے گھر میں یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی میرے بھائی میجر کو کہی سالوں تک حراست میں لیکر لاپتہ کردیا گیا تھا لیکن بعد میں وہ 2019 کو بازیاب ہوگئے تھے مگر اس کے بعد میرے بھائی شاہ فہد کو بھی حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ میری والد مسلسل ذہنی اذیت کی وجہ سے دل کی مرض میں مبتلا ہے ہم نے اپنے بھائی کو بازیاب کرانےکےلئے تمام قانونی راستے اپنائے مگر اس کے باوجود بھی میرا بھائی بازیاب نہ ہوسکا ۔
اس کے علاو خاران سے لاپتہ رحیم الدین کی ہمشیرہ حاکمین بلوچ نے بھی آج دھرنے میں شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کیا۔ انہوں نے کہا اس کے بھائی کو 26 اگست 2016 کو پاکستانی فورسز نے رات گئے دو بجے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔
حاکمین کا کہنا تھا کہ میرا بھائی بے گناہ ہے اس کو نجانے کس جرم کی سزا میں پچھلے 6 سالوں سے لاپتہ کیا گیا ہے ۔ پچھلے چھ سالوں سے ہماری فیملی کا ہر ایک فرد کرب اور زہنی ازیت کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے بھائی کی بایابی کے لئے کہی میر و معتبر اور حکومتی نمائندوں سے رابطہ کیا مگر انکی بازیابی اب تک ممکن نہ ہوسکی ہے۔ حاکمین نے حکومتی اداروں سےطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی کو بازیاب کیا جائے اور اگر اسکا کوئی جرم ہے تو اسکا عدالت میں پیش کیا جائے ۔
واضع رہے کہ شال ریڈ زون میں لواحقین کے احتجاجی دھرنے کو اج 49 دن مکمل ہوچکے ہیں ۔ لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے کوئی خاطر خوا یقین نہیں دہانی نہیں کرائی گئی ہے ۔


