کوئٹہ(ہمگام نیوز) ذاکر مجید کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بازیاب کیا جائے،والدہ کی اپیل،
2009کو مستونگ کے علاقے پڑنگ آباد سے دو دوستوں سمیت اغواہ کیاکچھ دیر بعد دوستوں کو تشدد کے بعد چھوڑ دیاگیا لیکن زاکر مجید بلوچ تاحال لاپتہ ہے واجہ زاکر مجید بلوچ سیاسی رہنماءہیں جس کو بلوچ قومی حقوق کے آواز اٹھانے کی پاداش میں ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغواہ کیا زاکر مجید بلوچ کی بازیابی کیلئے اہلخانہ نے کراچی ،کوئٹہ اور اسلام آباد میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جبکہ متعدد مرتبہ مظاہرے اور ریلیاں بھی کیے ہیں ۔واجہ زاکر مجید بلوچ کی گمشدگی کا پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کیااور سپریم کورٹ کے متعد سماعت میں پیش ہوچکے ہیں چیف جسٹس نے زاکر مجید بلوچ کی گمشدگی ازخود نوٹس لیا اور ریاستی خفیہ اداروں کوواجہ زاکر مجید بلوچ کو ساتھ دنوں میں بازیاب کرنے کاحکم جاری کیا جبکہ زاکر مجید بلوچ کی ریاستی خفیہ اداروں کے ہاتھوں گمشدگی کے چشم دید گواہ موجود ہے لیکن اس کے باوجود زاکر مجید بلوچ ریاستی خفیہ اداروں کی تحویل میں ہے۔ زاکر مجید بلوچ کی گمشدگی سے اہلخانہ شدید زہنی کیفیت کا شکار ہے، زاکر مجید بلوچ کی والدہ متحرمہ نے اقوام متحدہ ،انسانی حقوق کے تنظیمیں سے اپیل کی ہیں کہ زاکر مجید بلوچ کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کرے،


