کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر اغوا بلوچوں کی بازیابی کیلئے قائم احتجاجی کیمپ کو 3729 دن مکمل ہو گئے ہیں.
بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری طور پر اغوا بلوچوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے پیاروں کو بغیر کسی جرم کے خفیہ اداروں نے پابند سلاسل کیا ہوا ہے.
لواحقین کا مطالبہ ہے کہ اگر ان کے پیارے اگر کسی غیر قانونی عمل میں ملوث رہے ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کر کے قانون کے دائرے کار میں رہ کر سزا دیا جائے یوں سالوں سال نوجوانوں کو غائب کرنا لواحقین کو ذہنی مریض بنانا ہے.
متحدہ عرب امارات سے اغوا، اور بعد میں پاکستان کے حوالے کیے گئے راشد حسین کی والدہ بھی اس موقع پر احتجاجی کیمپ میں موجود ہیں ان کا کہنا ہے کہ راشد کو بغیر کسی جرم کے ٹارچر سیل میں رکھا گیا ہے انہوں نے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کیا ہے کہ وہ ان کے بیٹے کی بازیابی میں کردار ادا کریں.
یاد رہے مقبوضہ بلوچستان سے گزشتہ ایک دہائی کے اندر ہزاروں کی تعداد میں مختلف مکاتب فکر کے بلوچوں کو پاکستانی فورسز اور خفیہ ادارے اغوا کر چکے ہیں جن میں سے کہیں بلوچ فرزندوں کی مسخ شدہ لاشیں بھی برآمد ہو چکی ہیں.






