سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںریکوڈک معائدہ غیرقانونی ہے، بلوچ قوم ایسے معائدوں کا پاسدار نہیں۔ فری...

ریکوڈک معائدہ غیرقانونی ہے، بلوچ قوم ایسے معائدوں کا پاسدار نہیں۔ فری بلوچستان موومنٹ

لندن (ہمگام نیوز) فری بلوچستان مومنٹ نے اپنے بیان میں ریکوڈک معاہدے کو غیر قانونی قرار دیکر بیرق گولڈ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ان معاہدوں کے حوالے سے اخلاقی اور قانونی پہلووں کو بالائے طاق رکھ کر دستخط کر رہا ہے اور بلوچ قوم قابض پاکستان کے بلوچستان کے معدنی وسائل کے حوالے بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کی پاسداری کا پابند نہیں ہوگا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک آزاد اور اخلاقی اصولوں کے حامل ملک اور کمپنی کو ایک لٹیرے سے معاہدہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بلوچستان پر پاکستان نے جبرا قبضہ کیا ہوا ہے اور بلوچ کے وسائل کو طاقت اور قوت کے زور پر لوٹ رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ مہذب دنیا کو زیب نہیں دیتا ہے کہ وہ ایک لٹیرے سے معاہدہ کرکے لوٹے ہوے مال میں بندر بانٹ کرے۔ بیان میں بیرق گولڈ کارپوریشن سے سوال کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر کل سعودی اور وینزویلا کی تیل، چلی کا تانبا، امریکہ کا گندم اور آذربائیجان کے گیس پر کوئی دوسرا لٹیرا قبضہ کرے تو کیا بیرق گولڈ ان سے جاکر معاہدہ کرسکتا ہے؟ اگر ان سے وہ معاہدہ نہیں کرسکتا ہے کہ یہ غیر قانونی ہے تو کس طرح بلوچستان کے سونے اور تانبے کی لوٹ مار کا معاہدہ ایک لیٹرے قابض کے ساتھ جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟

بیان میں مزید کہا گیا کہ روس نے پاکستان کی طرز پر یوکرین پر قبضے کے لیے حملہ کیا تو دنیا کے تمام تر ممالک یوکرین کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوگئے اور یوکرین کے علاقوں پر روسی قبضے کے دوران یوکرین کے وسائل کی بندر بانٹ کے بجائے روس پر تمام تر ممالک اور کمپنیاں پابندی لگا رہے ہیں۔ پاکستان نے بھی اسی طرح بلوچستان پر قبضہ کیا ہوا ہے، تو پھر کس جواز کے تحت ایک قابض سے معاہدہ غیرقانونی اور غیر اخلاقی اور دوسرے کے ساتھ جائز قرار دیاجاسکتا ہے؟

بیان کے آخر میں کینڈا کی حکومت اور عوام پر زور دیا گیا کہ وہ بلوچستان کے وسائل کی بندر بانٹ میں اپنے آپکو ایک لٹیرے کے صف میں شامل کرکے تاریخ کے غلط سمت میں نہ ڈالیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ بلوچ قوم آزاد بلوچستان میں قابض پاکستان کے کسی بھی معاہدے کے پاسداری کے پابند نہیں ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز