زاہدان (ہمگــام نیوز اپڈیٹ) سھرکان چیک پوسٹ پر ایک افسر ھلاک اور چار زخمی
یاد رہے گزشتہ روز سھرکان پولیس چیک پوسٹ پر نا معلوم مسلح افراد کا ایرانی پولیس فورس کے ساتھ جھڑپ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک چیف وارنٹ افسر ہلاک اور دیگر چار اھلکار زخمی ہوگئے تھے تاہم اس واقع کے بعد پولیس کے اعلی حکام نے یہ حکمنامہ جاری کیاتھا، کہ اب کسی بھی مشکوک شخص یا گاڑی کو دیکھتے ہی فوراً شوٹ کیا جائے ـ
ہمگام نیوز اپڈیٹس کے مطابق گزشتہ روز مغربی مقبوضہ بلوچستان کے علاقے سھرکان چیک پوسٹ پر اچانک نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سھرکان چیک پوسٹ پر تعنیات ایک افسر موقع پر ھلاک جب کہ دیگر چار اھلکار شدید زخمی ہوگئے تھے ھلاک شدہ افسر کا نام مصطفی محبی ہے جو کہ مشھد کا رہائشی بتایا جاتا ہے اور دیگر چار اھلکار جو زخمی ہوگئے تھے جن کے نام بالترتیب درج ذیل ہیں
1: کیپٹن محمد علی عباسی.
2: استواردوم محسن پورمحمد
3: مهدی استوار
4: نائک رامین جوشن کے نام سے ہوئے ہیں۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس واقع کو کسی تنظیم نے قبول نہیں کی،تاہم اس سے قبل ایران کے زیر قبضہ بلوچستان میں ایران کے سرکاری فورسز پر ہونے والے اس نوعیت کے حملوں کی زمہ داری جیش العدل و دوسرے مسلح تنظیموں کی جانب سے قبول کیا جاتا رہا ہیں۔


