کوئٹہ(ہمگام نیوز) بی ایل اے کے ترجمان میرک بلوچ نے کہا ہے کہ سرمچاروں کے حالیہ سرنڈر ہونے کے اعلانات ریاست اور قومی تحریک اندر چھپے اس کے خفیہ ایجنٹوں اور زرخرید دلالوں کی ملی بھگت سے تیار کئے گئے ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں ان ہتھکنڈوں کا مقصد سیدھی طرح سے بلوچ قومی تحریک کے خلاف پروپیگنڈہ کے ذریعے اقوام عالم کو گمراہ کرکے بلوچ گل زمین پر قبضہ گریت اور بلوچ وسائل کی لوٹ مار کےلئے حمایت و مدد حاصل کرنا ہے پچھلے کچھ عرصے سے قومی تحریک آزادی کے خلاف ریاست کو مختلف زاویوں سے مختلف طریقہ کار کے تحت کام کرنے کے مواقع ہاتھ آچکے ہیں جن میں ایک طریقہ ان زر خرید ایجنٹوں کے ذریعے کسی بھی طرح سے قومی تحریک کو ہائی جیک کروانا شامل ہے جوبظاہر تو قومی تحریک کا حصہ بننے میں کامیاب ہوچکے ہیں لیکن وہ قومی تحریک کے بنیادی مقصد کے خلاف منفی عمل و اقدامات کے ذریعے تیزی سے قومی تحریک کے روح کو مسخ کرکے اس سے بدظنی کا باعث بننے پر عمل پیرا ہیں اور دوسری طرف اندرونی طور پر چھوٹے چھوٹے مفادات،گروہ بندیاں،نادانیاں،عزائم،سازشیں یہ سب بھی بطور سیڑھی ریاست کے ہی کام آرہے ہیں اس تمام صورت حال کو سمجھتے ہوئے ا یسے ناپاک عزائم کو پایاتکمیل تک پہنچانے کی راہ میں بلوچ لبریشن آرمی مذمت اور مزاحمت کے طور پر روکاوٹ بن چکا ہے ان حالات میں بلوچ لبریشن آرمی کے لیے یہ وضاحت ضروری ہوچکا ہے کہ یہ کیسے چکی کے دو پاٹ بنکر قومی تحریک کو پیسنے کے لیے تیار ہوچکے ہیں ایک طرف ریاست اور ایک طرف اندرونی طور سامنے آنے والے وہ منفی عزائم ہیں اور ان دونوں کے جوڑ کو برابر رکھنے والے وہ خفیہ ہاتھ جو اندر گھس کر قومی شکل اختیار کر نے میں کامیاب ہوچکے ہیںیہ ایک ایسا ٹرایکا بن چکا ہے جو مکمل قومی تحریک کے خلاف جارہا ہے۔جنگ آزادی کے دوران یو بی اے کا ظہور ہو یا دوسرے وہ تمام اقدامات جو سیدھی طرح سے اجتماعی سوچ ،قومی تشکیل کے تقاضوں اور یکجہتی سے متصادم ہیں شروع سے ہی ان کی نشاندہی کرکے ان پر سوال اٹھایا گیا اور اندرونی طور پر ایسے تمام منفی اعمال و اقدامات کی بھر پور حوصلہ شکنی بھی کی گئی جو قومی تحریک اور اس سے وابستگی رکھنے والے تنظیموں کے تقاضوں کے منافی تھے بلوچ لبریشن آرمی اپنے تنظیمی ڈھانچے میں بہتر نظم و ضبط عسکری مہارت اور جنگی اصولوں پر شروع دن سے سختی سے کاربند رہنے کی کوششیں کرتا رہا ہے انہی اصولوں کے تحت جوابدہی کا عمل بلوچ لبریشن آرمی کا خاصہ رہا ہے بدقسمتی سے قومی تحریک سے وابستہ بہت سے افراد کے لیے یہ عمل قابل قبول نہیں تھا اور وہ اس سے ناخوش نظر آتے تھے اور آج بھی بہت سے لوگ اس عمل کو دل سے قبول نہیں کرتے شروع میں بلوچ یونائیٹڈ آرمی کا ظہور اسی عمل سے بغاوت کا نتیجہ تھا لیکن وقت کے ساتھ یہ ریاستی اور اندرونی مفاداتی عزائم کا شکار ہوتا چلا گیا جسکے نتیجے آج ایک طرف بے گناہ پشتونوں کے مشکوک قتل عام پر اور دوسری طرف شکاری مدینہ اور قلاتی کے سرنڈر ہونے پر متنج ہورہے ہیں یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ شکاری و مدینہ جنکا تعلق ریاست بلوچ لبریشن آرمی سے جوڑنے کی ناکام کوششیں کررہا ہے ان کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی سے نہیں ہے بلکہ قلاتی سمیت ان تمام افراد کا تعلق یونائیٹڈ بلوچ آرمی سے ہے اور یہ وہ تنظیم ہے جس سے بلوچ لبریشن آرمی پچھلے آٹھ ماہ سے حالت جنگ میں ہے ماضی میں قادر مری اور ناڑی مراد بہت سے تنظیمی معاملات میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے جوابدہ بنائے جاچکے تھے اور ہتھیاروں میں غبن کے حوالے سے ناڑی مراد پر کئی شکایات تنظیم کے سامنے آچکے تھے جنکی تنظیمی سطح پر تحقیقات بھی جاری تھے کہ عین اس وقت زامران مری اپنے کرپشن کی وجہ سے سامنے آئے جب زامران مری کو پوچھ گچھ کے دائرے میں لانے کی کوششیں شروع کی گئی تو زامران مری نے جوابدہی سے فرار اختیار کرتے ہوئے نواب خیر بخش مری کے سرپرستی کا دعوی کیا اور قادر مری اور ناڑی مراد سے ملکر تنظیمی نظم و ضبط سے انکار کرکے بغیر کسی بھی جواز کے ایک مسلح گروہ یو بی اے کا اعلان کیا اس شوشہ کو حقیقی رنگ دینے کے لئے ان افراد نے مری قبیلے اور علاقے میں موجود ان تمام افراد جو تنظیمی نظم و ضبط اور عسکری معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے مسترد کئے جاچکے تھے انکے علاوہ بدنام زمانہ چور ڈاکو، بدکاروں کو یکجا کیا جنکو پہلے سے بلوچ لبریشن آرمی سماجی برائیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے نا پسندیدہ قرار دے کر پابندکرچکا تھا ناڑی مراد اور قادر مری نے زامران مری کے سرپرستی میں جدوجہد آزادی کے نام پر انھیں مسلح کیاان حالات میں بلاجواز یونائیٹڈ بلوچ آرمی کی تشکیل ‘اسکو نواب خیربخش مری کی حمایت ‘ہتھیاروں میں غبن ‘زامران مری کی کرپشن‘ جیسے درپیش مسائل کو دیگر موجود تمام آزادی پسند گروپس کے علم میں لایا گیا اور اس سے ان مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کو کہا گیا اس دوران تین سال کے طویل عرصے تک اپنے طور پربلوچ لبریشن آرمی نے انکے خلاف کسی بھی قسم کے اقدام سے مکمل گریز کیا باوجود اس کے کہ ہماری تنظیم پر جنگی حالات کی وجہ سے بہت زیادہ دباوبھی بنارہا اور بہت سے اوقات میں تنظیم نے انہی مسائل کی وجہ سے بہت سے نقصانات بھی برداشت کئے مگر دوسری طرف مری علاقے میں یو بی اے کے تشکیل کے فوراً بعد قابض ریاست کے خلاف کاروائیوں میں اضافہ ہونے کے بجائے اچانک بی ایل اے کے دوستوں کے راستوں پر مائن کاری، انہیں قتل کرنے کی شازشیں، چوری ، ڈاکہ زنی، اغوا برائے تاوان اور عورتوں سے بدسلوکی جیسے واقعات رونما ہوتے گئے علاقائی لوگوں کے طرف سے بار بار شکایات اور پیش کردہ ثبوتوں نے یہ بات صاف کردی کہ ایسے تمام واقعات کسی بھی نظریاتی یا انتظامی اختلافات کی نفی کرتے ہیں یہ سیدھی طرح سے قومی تحریک کے خلاف سازشوں کا شاخسانہ ہیں ایسے حالات میں بی ایل اے کو بحالت مجبوری ان عناصر کے خلاف اعلان جنگ کرنا پڑا کیونکہ قلاتی کی طرف سے بلوچ ماوں بہنوں سے بدسلوکی کاہان کے رہائشی دو معصوم افراد بحشک علی میکانی اور شیرو میکانی کا قتل بلوچ لبریشن آرمی کے ساتھیوں کو لینڈ مائن کے ذریعے قتل کرنے کی سازشیں. شیرعالم مری کی سرپرستی میں مری قبائلی عمائدین کے بچوں کو اغوا کروا کر ان پر دباو ڈالنا کہ وہ بلوچ لبریشن آرمی کے حمایت سے دستبردار ہوجائیں سب نا قابل برداشت عمل بن چکے تھے ان حالات میں مزار بلوچ کا قلاتی ، شکاری اور مدینہ سے چھ ماہ قبل لاتعلقی کا اخباری بیان گمراہ کن ہے کیونکہ تین ماہ قبل قلاتی و شکاری کی طرف سے ایک مری گھرانے پر حملہ کرنے جیسے ناروا عمل کو یو بی اے نے قبول کرکے بلو چ لبریشن آرمی کے ساتھیوں کو قتل کرنے کا دعوی کیا تھا جس حملے میں شیر خوارمعصوم بچے اور عورتیں زخمی ہوئے تھے اور ایک ساٹھ سالہ بزرگ شہید ہوا تھا اور تقریبا ڈیڈ ماہ قبل اسی قلاتی اور ناڑی مراد نے شیر عالم مری کے سرپرستی میں ایک قبائلی معتبر کے بیٹے کو اغواءکرکے دھونس اور دھمکی کے زریعے اسے بلوچ لبریشن آرمی کے خلاف کام کرنے پر مجبور کرنے کی ناکام کوششیں کئے تھے اس طرح کے مسئلوں میں شیرعالم مری برائے راست فون پر لوگوں کو دھمکیاں دیتے تھے اور ان پر ایسے ہتھکنڈوں کے ذریعے دباو ڈالتے تھے کہ وہ تنظیم کے خلاف کام کریں ان افراد کے خلاف علاقے کے لوگوں میں نفرت اور لوگوں کے طرف سے مزاحمت نے ان عناصر پر علاقے میں زمین تنگ کردیا جس کی وجہ سے یہ دو گروہ میں تقسیم ہوکر میر ہزار خان بجارانی اور بگٹی علاقے میں روپوش ہوگئے بگٹی علاقے کے زمہ داران کو بھی تمام صورت حال سے مطلع کیا گیا مگر افسوس اس کے باوجود یہ سلسلہ وہاں سے جاری رہا جب مری علاقے میں یہ لوگ اپنے سازشوں کو انجام دینے میں ناکام ہوئے تنظیم اور تحریک کے خلاف کوئی موثر کردار ادا کرنے میں ناکامی کے بعد اچانک سے بے گناہ پشتونوں کے قتل اور یہ سلسلہ وار سلامی ہونے کا سلسلہ شروع کیا گیا اگر بغور جائزہ لیا جائے تواس تمام سلسلے میں میر ہزار خان بجارانی شیرعالم مری قادر مسوری اور ڈاکٹر اللہ نذر اور خلیل بلوچ کے طرف سے یونائیٹڈ بلوچ آرمی کی حمایت اور حوصلہ افزائی کیا اس خفیہ ہاتھ کی طرف اشارہ نہیں کرتا جو ریاست کے ناپاک عزائم اورانکے چھوٹے چھوٹے مفادات گروہیت ونادانیوں کے نتائج کو باہم جوڑکربالکل چکی کے دو پاٹ کی طرح دونوں طرف سے قومی تحریک کو پیستے جارہے ہیں۔بلوچ لبریشن آرمی کسی بھی دعوے کے بغیر بلوچ عوام کو یہ پیغام دیتی ہے کہ آنے والا وقت مزید آزمائش و قربانیوں کا تقاضہ کرنے والا وقت ہوگا ایسے حالات میں ایک موثر قومی کردار ادا کرنا ہر بلوچ کا فرض ہے اس کردار کو ادا کرنے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا اور قومی کردار ادا کرنے کے لئے حقیقی حوالے سے قومی عمل سے جوڑنا ہوگا اور حقیقی قومی عمل کی پہچان کے لئے تمام حالات سے بخوبی آگاہی بنیادی شرط ہے آگاہ رہیں غور کریں اور جدوجہد آزادی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے اپنا حقیقی کردار اد اکریں۔


