سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںسعودی آئل کمپنی آرامکو پر حملے میں ایران برائے راست ملوث ہے:امریکی...

سعودی آئل کمپنی آرامکو پر حملے میں ایران برائے راست ملوث ہے:امریکی وزیر خارجہ

واشنگٹن ( ہمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اور سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیک پومپیو نے ایرانی حمایت یافتہ شیعہ حوثیوں کی طرف سے سعودی آئل کمپنی آرامکو پر تباہ کن ڈرون حملہ بارے سوشل میڈیا کے ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرون حملے حوثی باغیوں نے نہیں ایران نے کیے ہیں۔
مائیک پومپیو نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں لکھا ہے کہ سعودی عرب پر 100 کے قریب ڈرون حملوں میں ایران ملوث ہے جب کہ ایران کے صدر اور وزیر خارجہ ایسا ظاہر کر رہے ہیں جیسے کہ وہ سفارتکاری میں مصروف عمل ہیں۔

پومپیو نے مزید کہا ہے کہ شدت پسندی و دہشتگردی کو ہوا دینے کے خاتمے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے دنیا کو آئل سپلائی کرنے والی ریفائنری پر پے درپے حملے کیے، ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ حملے یمن سے کئے گئے ہو۔
مائیک پومپیو نے مزید کہا کہ امریکا اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ انرجی مارکیٹ کو آئل فراہم کیا جا رہا ہے جب کہ اس جارحیت کا ذمہ دار یعقینی طور پر ایران ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اپنی فوج کو ہائی الرٹ پر رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر کیے جانے والے حالیہ حملے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
سعودی فوج کو حکم دیا گیا ہے کہ کسی بھی حملے یا ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہیں۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے دمام کے قریب بقیق اور ہجرہ خریص کے آئل فیلڈز میں ڈرون حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے تفصیلات جاری کیئے جن کے مطابق آئل تنصیبات کو ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا بعد ازاں دونوں تنصیبات میں بھڑکی ہوئی آگ پر قابو پا لیا گیا اور اسے پھیلنے سے روک دیا گیا۔امریکا نے سعودی آئل ریفائنری میں ہونے والے ڈرون حملوں کے حوالے سے الزام لگایا گیا ہے کہ آئل ریفائنری پر حملے میں ایران براہ راست ملوث ہے۔ دو روز قبل سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری آرامکو کی دو آئل فیلڈز پر ڈرون حملے کیے گئے تھے جس کے باعث ریفائنری میں بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی تھی۔ یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سرکاری آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ڈرون حملے حوثی باغیوں نے نہیں ایران نے کیے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس حملے کے بعد اوپیک ممبر سعودی عرب نے تیل کی پیداوار کو کم کرکے نصف کرنے کا اعلان کیا ہے ۔جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمت بڑھنے کا واضع امکان ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطی کے خطے میں بدامنی پیھلانے میں ایران شر پسندی و دہشتگردی پیھلانے میں برائے راست ملوث ہے۔اور اس خطے میں ایران ،امریکہ،عرب اتحادی ممالک برائے راست ایک خوفناک تصادم کی جانب مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز