ریاض (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے اپنے ایک 26 سالہ شہری کو مبینہ طور پر سن بلوغت تک پہنچنے سے پہلے سرزد ہونے والے جرائم کے لیے موت کی سزا دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام پر نکتہ چینی کی ہے۔
سعودی عرب نے 15 جون منگل کے روز 26 سالہ مصطفی الدرویش کی سزائے موت پر عمل کیا اور ان کی گردن مار دی گئی۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ درویش پر جن جرائم کے ارتکاب کا الزام تھا وہ ان سے سن بلوغت تک پہنچنے سے قبل سرزد ہوئے تھے۔ سعودی عرب کے حکام نے اس سزائے موت پر عمل درآمد کی تصدیق کر دی ہے۔
مصطفی الدرویش کو سن 2011 اور 2012 میں فسادات میں ملوث ہونے والے افراد سے ملاقاتیں کرنے، ‘مسلح بغاوت میں حصہ لینے بدامنی پھیلانے، اور سکیورٹی فورسز کو ہلاک کرنے لیے سازشیں کرنے سمیت متعدد الزامات کے تحت قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔
انہیں سن 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2018 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس برس مئی کے اواخر میں موت کی سزا کے خلاف وہ قانونی لڑائی ہار چکے تھے۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے متنبہ کیا تھا کہ اب ان کی موت کی سزا پر عمل یقینی ہے شاہ سلمان خود اس میں مداخلت کریں۔
مصطفی الدرویش کا تعلق سعودی عرب کی اقلیتی شیعہ برادری سے ہے اور بہار عرب کے دوران ملک میں جہاں بھی شیعہ اکثریت میں ہیں وہاں سعودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے تھے۔ درویش کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے بھی صرف حکومت مخالف مظاہروں میں ہی حصہ لیا تھا۔
انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کے مطابق 26 سالہ درویش کو جن الزامات کا سامنا تھا وہ ان سے اس وقت سرزد ہوئے ہوں گے جب ان کی عمر تقریباً 17 یا اٹھارہ برس کی رہی ہو گی۔ لیکن سعودی حکام کا دعوی ہے کہ اس وقت وہ سن بلوغت کو پہنچ چکے تھے تاہم حکام نے اس سلسلے میں کوئی دستاویز یا ثبوت فراہم نہیں کیا


