کمیلا نے چارلس کے ساتھ طویل تعلقات کے بعد ساکھ بہتر بنانے کے لئے میڈیا میں خاندانی معلومات لیک کیں: انٹرویوز
لندن( ہمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق برطانوی شاہی محل کی دیواروں کے پیچھے زندگی کے رازوں سے پردہ اٹھانے والی اپنی نئی کتاب ’’سپیئر‘‘ کی تشہیر کرتے ہوئے شہزادہ ہیری نے اپنی سوتیلی ماں کمیلا پارکر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی ساکھ کو بہتر کرنے کے لیے نجی گفتگو کو میڈیا میں لیک کرتی رہی ہیں۔
اتوار اور پیر کو نشر ہونے والے انٹرویوز میں ہیری نے شاہی خاندان کے ارکان پر الزام لگایا کہ وہ پریس کوریج حاصل کرنے کے لیے شیطان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی سوتیلی ماں کمیلا پر الزام عائد کیا کہ ان کے والد چارلس، جو اب کنگ بن گئے ہیں، کے ساتھ طویل تعلقات کے بعد کمیلا نے عوام میں اپنی شبیہ بہتر کرنے کیلئے خاندان کی معلومات میڈیا کو لیک کی تھیں۔ ہیری نے سی بی ایس کو بتایا کہ کیملا نے برطانوی پریس کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے اس معاملہ کو خطرناک بنا دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا میڈیا اور ملکہ دونوں طرف سے معلومات کے تبادلہ کی واضح خواہش تھی، کیونکہ شاہی خاندان ایک درجہ بندی پر بنایا گیا تھا، کمیلا کو ہونے والی ملکہ کنسورٹ کا درجہ حاصل تھا۔ اس لیے کچھ لوگوں یا ساتھیوں کو سڑک پر کھلا چھوڑ دیا گیا۔ ہیری نے منگل کو سامنے آنے والی اپنی کتاب سپیئر کی تشہیر کے لیے سی بی ایس کے پروگرام 60 منٹ اور گڈ مارننگ امریکہ میں بات کی۔
برطانیہ میں کچھ کتابوں کی دکانوں نے آدھی رات کو اپنے دروازے کھول دیے تاکہ کتاب کی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔ اس کتاب نے اپنے آنے سے قبل ہی شہ سرخیوں میں جگہ بنا لی تھی۔ کتاب میں خاندانی جھگڑوں اور ہیری اور میگھن کے شاہی کردار ترک کرنے کے حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
اپنے انٹرویوز کے دوران ہیری نے بار بار میڈیا کو ان مسائل کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جن کا انھیں اور ان کی اہلیہ کو سامنا ہے اور کہا کہ اس کوریج نے ان کے بھائی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ کے ساتھ جھگڑے کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
ہیری کی کتاب اپنی باضابطہ ریلیز کی تاریخ سے پانچ دن قبل جمعرات کو سپین میں فروخت ہوئی۔ کتاب میں برطانوی شہزادے ہیری نے غیر معمولی واقعات بیان کئے ہیں۔ انہوں نے اپنے منشیات استعمال کرنے، شاہی خاندان میں ناہمواری کی مثالیں اور 17 سال کی عمر میں ایک بڑی خاتون سے اپنے پہلے جنسی تعلق کے احوال لکھے ہیں۔



