ہمگام رپورٹ اطلاعات کے مطابق سیندک پراجیکٹ کی استحصالی کمپنی، اپنی تمام تر لوٹ مار کے ساتھ، اب اپنے مکار اور فراڈی افسروں کے ذریعے غریب ملازمین کو مستعفی ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق کم اسکورنگ کے بہانے ملازمین کو ڈرا دھمکا کر کہا جاتا ہے کہ اگر وہ مستعفی نہ ہوئے تو ان کی ملازمت کا خاتمہ کر کے فورس کی گاڑی میں بٹھا کر سیندک بدر کر دیا جائے گا۔ مقامی اور غیر مقامی ضمیر فروش افسران، “جو اپنا ایمان کمپنی کو بیچ چکے ہیں”، جنہیں کمپنی اپنی گود میں بٹھا کر لوٹ مار کو انہی کے ذریعے دوام دے رہی ہے، اب ان کے ذریعے ملازمین سے زبردستی استعفیٰ لینے کا کام سونپا گیا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ان افسروں کی کرتوتوں کی وجہ سے رواں مہینے میں پندرہ سے زائد ملازمین استعفیٰ دے چکے ہیں۔ ان میں اکثریت وہ ملازمین ہیں جنہوں نے سیندک میں اٹھارہ سال گزارے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ ان ملازمین سے استعفیٰ دلوانے میں ڈپٹی ڈائریکٹر، سیکشن انچارج، فورمین، اور جنرل فورمین کو داد دی جاتی ہے، اور بدلے میں انہیں پروموشن اور لوٹ مار میں کھلی چھوٹ دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، انہیں احکامات جاری کیے جاتے ہیں کہ جن ملازمین کی سروس اور معاوضہ زیادہ ہے، انہیں حیلوں بہانوں سے ہٹا کر کم اُجرت اور کم معاوضہ لینے والے افراد کو بھرتی کریں۔ اس دوڑ میں ہر افسر دوسرے سے سبقت لینے کے لیے سرگرمص ہے۔
ذرائع نے آخر میں اپیل کی ہے کہ ان پچیس سالہ بلوچ قومی معدنیات کی لوٹ مار اور بلوچ ضمیر فروشوں کی استحصالی کمپنی کے ساتھ شراکت داری پر بلوچ عدالت میں رجوع کیا جائے اور انہیں طلب کیا جائے تاکہ انہیں عبرت کا نشان بنایا جا سکے۔


