ہمگام نیوز
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے بلوچ قومی راہشوں شہدائے مرگآپ اور تحریک آزادی کے روح روان شہید غلام محمد بلوچ شہید لالا منیر شہید شیر محمد بلوچ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی لازوال جدوجہد اور غیر معمولی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہے آزادی کے لئے ان کی کوششیں شہادت جانفشانی بے لوث اور صبر آزما جدوجہداور جانی مالی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گے ترجمان نے کہاکہ شہدانے قومی آزادی کو نصب العین بناکر جدوجہد کی بنیادوں کو اپنے خوں سے ایندھن دیکر نہ صرف زندہ رکھابلکہ کاز آزادی کو عالمی برادری کے توجہ کا مرکز بنا یاہمیں شہدا ئے آجوئی کے ادھورے مشن کے پایہ تکمیل کے لئے آزادی کے جذبوں کے ساتھ ہمہ وقت قربانی کے لئے تیار رہنا چاہیے ترجمان نے کہاکہ بلو چ شہداء کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ہم شہداء کے کاز کو مضبوط کرکے بلوچ قوم کے ایک ایک فرد کوتحریک آزادی سے مر بوط کرے اور ان کے جدوجہد کی روشنی میں آگے بڑھ کر ریاست کےتسلط سے بلوچ وطن کو آزاد کرین دنیا میں انسان کی جان سب سے زیادہ قیمتی ہے لیکن آزادی کی جدوجہد کا شعور آزادی کو جان سے بھی زیادہ قیمتی کرتا ہے کیونکہ غلام قوم کی کوئی زندگی اور حیثیت نہیں ہوتی پہچان اور شناخت آزاد قوموں کے ہوتی ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچستان کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ غیر حقیقت پسندانہ ریاستی رویہ ہے جو بلوچستان پر بلجبر تسلط قائم کرکے بلوچستان کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھ کر بلوچ تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے بے پناہ وسائل اور طاقت استعمال کررہی ہے اورہزاروں سال سے وجود رکھتے ہوئے بلوچ اوربلوچستان کو آگ خون میں ڈبوکر ایک طویل غلامی کی آسیب میں بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھ کر بلوچ قوم کی معاشی تعلیمی ثقافتی اور سیاسی استحصال کررہاترجمان نے کہاکہبلوچ شہداء آزادی کے لئے قربانیاں دیں انکریمنٹ اور پیکجزکے لئے نہیں بلوچ قومغلامی کے خلاف جدوجہد کی ہے غلامی پر بیعت نہیںشہداء نے آزادی کے جو بیج بوئے تھے آج وہ تناور درخت بن چکاہے یہ تسلسل جدوجہد آزادی کی شکل میں جاری ہے بلوچستان کی آذادی کے جدوجہد دہائیوں کانہیں صدیوں کا ہے یہ ایک عشرے کانہیں کئی نسلوں نے اسے اپنے خون سے ایندھن دیکر زندہ رکھا ہے بلوچ قوم ہمیشہ بیرونی غلامی کے خلاف جدوجہد کی ہے وہ چائے کوئی بھی طاقت ہو ترجمان نے کہاکہ شہداء نے ہمیشہ تحریک کو اپنے خون سے تازہ دم اور توانا کیا ہے ریاستی جبر سے بلوچ نہ تو پہلے خوف زدہ تھا اور نہ ہی اب ہے بلکہ جبر سے تحریک کے ابھار میں تیزی آئی ہے بلوچ شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے اپنی سیاسی اور نظریا تی فتح کی سچائی کو ثابت کی ہے۔


