یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںشہدائے مرگاپ کی آزادی کے یک نکاتی ایجنڈے کو بلوچ سماج کی...

شہدائے مرگاپ کی آزادی کے یک نکاتی ایجنڈے کو بلوچ سماج کی گہرائیوں میں وسعت ملی.بی ایس ایف

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں شہید غلام محمد بلوچ شہید لالا منیر اور شہید شیر محمد بگٹی کے یاد کو دہراتے ہوئے انہیں تحریک آزادی میں کلیدی کردار ادا کرنے اور قومی شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ جو لوگ اپنی زات اور زندگی سے بالاتر ہوکر اپنی مقصد کی عظمت سے واقف ہوتے ہیں ان کے لئے جان قربان کرنا کوئی بڑی بات نہیں شہدائے مرگاپ بلو چ تحریک آزادی کے وہ شہداء ہے جنھوں نے آزادی کے جہد کواپنے خوں سے آبیار کرکے طاقت اور توانائی دی ہے ان کی شہادت اگر چہ ایک بڑی قومی نقصان سے کم نہیں تھے لیکن ان کی شہادت تحریک کے لئے شدت کا باعث بنی ان کی شہادت سے ریاست جو فوائد حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن ریاست کو سیاسی محاذ پر عبرت ناک شکست ہوئی شہید غلام محمد اور ساتھیوں کو شہید کر کے ریاست آزادی کے زمینی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے لئے جس جارحیت کے ساتھ مرگ آپ کا واقعہ سامنے لایا تاکہ بلوچ عوام آزادی کی جمہوری جدوجہد سے دور رہے اور ان کے پارلیمانی پراکسی سیاست کو بلوچ عوام میں پزیرائی حاصل ہو اور ان کے مقامی نمائندگا ن کو بلوچ سیاست کے نام پر عوام کے درمیان سیاست کا ماحول اور موقع مل سکے تاکہ وہ آسانی اور بغیر کسی مخالفت اور مزاحمت کے بلوچ قوم کو مزید غلام بنا کر بلوچ وطن کو اپنی تسلط میں رکھ سکیں لیکن شہدائے مرگ آپ کی آزادی کے سلوگن اور قومی آزادی کے یک نکاتی ایجنڈے کو بلوچ سماج کی گہرائیوں میں وسعت ملی اس کی وجہ شہید غلام محمد اور ان کی ساتھیوں کی مخلصانہ اور بے لوث جدوجہد تھی شہید غلام محمد بلوچ2004 میں ریاستی پارلیمانی سیاست کو الوداع کرتے ہوئے اسے بلوچ قوم کے ساتھ دھوکہ اور دشمنی سے تعبیر کرتے ہوئے بلوچ قوم کو آزادی کے واضح ایجنڈے سے منسلک کرنے کی کوششوں کا آغاز کرکے اپنی سیاسی سفر کو ایک نئی رخ دیا جو بلوچ پارلمنٹرین کے لئے ایک کاری ضرب تھاان کا یہ عمل نام نہاد پارلیمانی سیاست پر ایک بڑا سیاسی حملہ تھاجس سے ریاست کے باج گزار وں کی سیاست اپنی توازن کھو بیٹی جبکہ شہید غلام محمد کی انتھک جدوجہداور کوششوں کو اپنی لئے خطرہ تصور کرتے ہوئے وہ شہید غلام محمد کے مخالف ہوئے ان کے بارے مین لغو اور بے بنیاد پروپیگنڈہ بھی کیا گیا لیکن وہ ایک قومی رہنماء کی طرح کسی کے باتوں اور الزام تراشیوں پر توجہ کرنے کے بجائے منظم انداز میں بردباری کے ساتھ آزادی کے تبلیغ و پر چار کے سیاسی عمل کوتیز کردیا ترجمان نے کہا کہ وہ ایک پیشہ ور انقلابی کی طرح بلوچ کاز سے فکری و عملی طور پر وابسطہ رہے وہ ایک مدبر اور قومی دانشور کی حیثیت سے بلوچ نیشنلزم میں ایک استاد کی صورت میں رہنمائی کی ایسے بے لوث و خاکسار رہنماء صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ان کی شہادت یقیناًایک المیہ ہے لیکن ہمیں افسوس نہیں کیونکہ شہادتیں قومی تحریکوں کی کامیابی کی غمازی کرتے ہیں ایسے لوگ جو اپنی جان کی قیمت پر آزادی کی تحریک چلاتے ہیں وہ تاریخ میں انمٹ ہوتے ہیں ان کی قبرستان زمانہ کے دھول سے نہیں مٹتے جو اپنی زندگی فنا کرکے قومون کی آزادی کے لئے ہوتے ہیں شہداء نے اس فلسفہ کو سچ ثابت کیا کہ نظریاتی اور انقلابیون کے سامنے مقصد کی اہمیت جان سے بڑھ کر ہے اور ان کی شہادت دشمن کی اس خیال کے بھی نفی کرتی ہے کہ شہادتین اغواء گرفتاریاں تحریک کے ابھار کو ٹھنڈا کرتے ہیں

یہ بھی پڑھیں

فیچرز