سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںشہید حمید اور دیگر بلوچ شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،...

شہید حمید اور دیگر بلوچ شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، بلوچ سالویشن فرنٹ

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ وطن موومنٹ بلوچ گہار موومنٹ اور بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری ایک بیان میں شہدائے آجوئی شہید حمید بلوچ شہید رحیم بخش بلوچ شہید مرید بگٹی شہید خالد لانگو شہید ستا ر بلوچ شہید بیبگر بلوچ شہیدخالد کرد اور دیگر بلوچ شہداءکو قومی آذادی کی جدوجہد میں والہانہ کرداراور قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہداءکو جسمانی طور پر ہم سے جدا کرنے والے ان کی سوچ ،فلسفہ اور جدوجہد کے تسلسل کو ختم نہیں کرسکتے آج سے چار دہائی قبل شہید حمید بلوچ کو پھانسی دینے والے یہی سوچ رہے تھے کہ حمید کو تختہ دار پر چڑھاکر وہ بڑے کامیابی حاصل کرچکے ہیں لیکن حمید کی شہادت نے قومی آزادی کی جدوجہد کو نئی شکتی اور طاقت دیکر ریاست کی کاﺅنٹر پالیسی پر کاری ضرب ثابت ہوئی کہ لاشیں گرانے سے آزادی کی تحریکوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا دشت تربت کے نوجوان شہید حمید بلوچ کے کمٹمنٹ نظریہ اور آزادی کی ٹھوس اصولی موقف پر سزائے موت کا فیصلہ اثر انداز ہونے کے بجائے ریاست اور قبضہ گیریت کی سوچ کو شکست ہوئی شہید حمید بلوچ 1930 میں ہندوستانی نوجوان رہنماءشہید بھگت سنگھ کی مانند بخوشی پھانسی کے پھندے کو اپنے گلے میں ڈال کرآجوئی کے قربان گاہ پر اپنی جان نظر کردی تر جمان نے کہاکہ اگر چہ حمید بلوچ کو شہید کیا گیا لیکن اس کے سوچ ونظریہ کوصفحہ ہستی سے کھبی بھی مٹا یا نہیںجا سکتا ان کے عمل قربانی اور حوصلوں نے آج بلوچ سماج اور جہد آزادی کو ایک نئی ولولہ اور نئی جہت دی ہے ترجمان نے کہاکہ آزادی کا معمار شہیدحمید بلوچ کی آخری وصیت میں جدوجہد در جدوجہد کا درس بلوچ قوم کے لئے ایک انقلابی میراث سے کم نہیں ان کی وصیت تخت لاہور کو قبلہ و کعبہ بنانے والے پارلیمانی پارٹیوںکے منہ پر طمانچہ ہے کہ حمید جیسے نوجوان نے ہر قسم کی موقع پرستی اور طاقت و اقتدار کی بلندیوں کو ٹھوکر مارتے ہوئے اپنی نظریات پر سختی سے کار بند رھ کر غلامی قبول کرنے کے بجائے اپنی موت کو ترجیح دی آج حمید کی برسی منانے والوں پارلیمانی پارٹیاں بتائیں کہ کیا وہ حمیدکے فکر کے ساتھ دھوکہ اور دغا نہیں کررہے حمید نے نہ تو سمجھوتہ کیا اور نہ ہی اپنی نظریات کا سودا کیا بلکہ وہ سانس لینے سے اپنی آخری سانس تک جدوجہدآزادی کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی جان خاک گلزمین پر اس لئے فداءکردی تاکہ آزادی کے اس بہاﺅ کو مزید خون اور قوت ملے وہ شہید ہوکر بھی قومی مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے بلوچ قوم کے نام آزادی کا واضح پیغام دیکر اپنی مقصد اور فریضہ کی ادائیگی میںبہادری اور جرائت دکھائی جو تاریخ کے سنہرے صفحات کا حصہ ہے

یہ بھی پڑھیں

فیچرز