واشنگٹن(ہمگام نیوزڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈرون حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں پر سی آئی اے سے جواب طلبی کی پالیسی منسوخ کردی ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اس اقدام سے وسیع پیمانے پر ڈرون حملوں کے لیے سی آئی اے کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی کیونکہ ڈرون حملوں کے لیے فوج کے بجائے سی آئی اے پر صدر ٹرمپ کا انحصار بڑھتا جارہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس فرسٹ کی رہنما ریٹا سیمیون نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ غیر ضروری اور انتہائی خطرناک ہے۔
یاد رہے 15جنوری 2018 کو پاکستان کی ایک عدالت نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی ‘سی آئی اے’ کے اسلام آباد میں سابق اسٹیشن چیف کے خلاف مقدمہ بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔کیس میں اس بات کی دلیل پیش کیا گیا تھا کہ پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کی زمہ داری امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے کنٹری ڈائریکٹر جوناتھن بینکس پر عائد ہوتی ہے۔ امریکی اہلکار کے خلاف یہ مقدمہ تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کیا گیا تھا اور مقدمے کا نمبر 91 تھا جس میں قتل اور اعانت مجرمانہ کی دفعات لگائی گئیں۔جس پر کچھ بھی پیش رفت نہ ہوسکا،باوجود اس کے پاکستانی عدالت میں ایسا کچھ صرف عوامی دباو کے پیش نظر کی گئی تھی۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام نے سابق صدر باراک اوباما کی جانب سے 2 سال پرانے حکم کو تبدیل کردیا، جو انسداد دہشت گردی اور فوجی آپریشن میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کے بے دریغ استعمال کے بعد شفافیت کے طور پر سامنے آیا تھا۔
امریکی صدر کا یہ اقدام سی آئی اے کو حملے کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ طول دے گا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا خطرناک ڈرون آپریشن کے لیے فوج کے بجائے خفیہ ایجنسیوں پر انحصار بڑھ رہا ہے۔


