چهارشنبه, مارچ 18, 2026
Homeخبریںطالبان کے افغانستان میں جامعات میں لازمی مذہبی کلاسوں کا مزید اضافہ

طالبان کے افغانستان میں جامعات میں لازمی مذہبی کلاسوں کا مزید اضافہ

کابل( ہمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے تعلیمی حکام نے منگل کو بتایا کہ جامعات میں زیرتعلیم طلبہ کو اسلامی تعلیمات کی مزید لازمی کلاسوں میں شرکت کرنا ہوگی جبکہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے کہ لڑکیوں کے ثانوی اسکول دوبارہ کب کھلیں گے۔

طالبان میں بہت سے قدامت پسند افغان علماء جدید تعلیم کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔طالبان کے اسلامی تاریخ، سیاست اور حکمرانی سمیت اعلیٰ تعلیم کے وزیرعبدالباقی حقانی نے کہا کہ ہم موجودہ آٹھ میں مزید پانچ مذہبی مضامین شامل کر رہے ہیں۔اس کے بعد سرکاری جامعات میں لازمی مذہبی کلاسوں کی تعداد ہفتے میں ایک سے بڑھ کر تین ہو جائے گی۔

انھوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ طالبان کسی بھی مضمون کو موجودہ نصاب سے خارج کرنے کا حکم نہیں دیں گے۔تاہم بعض یونیورسٹیوں نے موسیقی اور مجسمہ سازی کے مطالعے میں تبدیلی کی ہے جو طالبان کی جانب سے شرعی قانون کی سخت تشریح کے تحت انتہائی حساس معاملات ہیں جبکہ افغانستان کی تعلیم یافتہ اشرافیہ بشمول پروفیسروں کے ملک سے انخلا کے بعد بہت سے مضامین کی تدریس بند ہوچکی ہے۔

دوسری جانب طالبان حکام گذشتہ کئی ماہ سے بالاصرار یہ کَہ رہے ہیں کہ اسکول لڑکیوں کے لیے دوبارہ کھلیں گے مگر کچھی تکنیکی اور مالی معاملات حائل ہیں۔

وزارت تعلیم کے ایک سینیرعہدہ دارعبدالخالق صادق نے منگل کے روز کہا کہ دیہی علاقوں کے خاندان اب بھی لڑکیوں کو سیکنڈری اسکول میں بھیجنے کی ضرورت کے قائل نہیں ہیں۔ہم اپنے رہنماؤں کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ ایک ٹھوس پالیسی لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دیہی علاقوں کے لوگ بھی قائل ہو سکیں۔

یادرہے کہ 1996ء سے 2001 تک طالبان کی پہلی حکومت کے تحت لڑکیوں کے لیے پرائمری اور سیکنڈری دونوں اسکول کبھی دوبارہ نہیں کھولے گئے تھے۔

گذشتہ سال 15 اگست کو اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان نے لڑکیوں اور خواتین پر سخت پابندیاں عاید کی ہیں تاکہ وہ اسلام کے بارے میں اپنے وژن پر عمل پیرا ہو سکیں۔اگرچہ نوجوان خواتین کو اب بھی یونیورسٹی جانے کی اجازت ہے لیکن بہت سی خواتین نے تعلیمی لاگت یا طالبان کے زیراقتدار افغانستان میں ان کے عوامی سطح پر خوفزدہ ہونے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دی ہے۔

دریں اثنا،حکام نے بتایا ہے کہ سیکنڈری اسکول سرٹی فکیٹ (ایس ایس سی)کے بغیر، نوعمر لڑکیاں مستقبل میں یونیورسٹی کے داخلہ کے امتحانات میں نہیں بیٹھ سکیں گی۔

عالمی برادری نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے لیے تعلیم کے حق کو ایک اہم شرط قراردیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گذشتہ ایک سال سے برسراقتدار ہونے کے باوجود اب تک کسی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز