کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ اسٹو ڈنٹس ایکشن کمیٹی نے اپنے مرکزی بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بولان میڈیکل کالج کے نئے سیشن کے طلباء کا اپنے کلاسز کے 6مہینے گزرنے کے باوجود آغاز نہ ہونا حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی پر سوالیہ نشان ہے ترجمان نے کہا کہ اگر بلوچستان کا واحد میڈیکل اور پروفیشنل کالج کے تعلیم کا یہ حال ہے جہاں سے وزیر اعلی خود فارغ و تحصیل ہیں اور ان کے پارٹی کے بے شمار رہنما بھی ایسی کالج کے گریجویٹ ہیں اگر آج اسی کالج کے طلباء اپنے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچانے کے لیے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں تو یہ ان کی دو سالہ کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں تعلیم کے حوالے سے بلند ببانگ دعوے کرنے والوں کا معیار دنیا کے سامنے اعیاں ہے وزیر اعلی بلوچستان، وزیر صحت بلوچستان، سیکریٹری صحت بلوچستان سمیت دیگر اعلی حکام کو کئ بار براہراست اور میڈیا کے ذریعے متعد بار اس طرف توجہ مبذول کرائی گئی لیکن حکام اس حوالے سے ٹس سے مس نہیں ہوئے اب طلباء مجبور ہوکر پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں جبکہ گزشتہ ہفتے جب اس حوالے سے کالج میں احتجاج کیا گیا تو انتظامیہ نے طلباء پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے 75سے زائد اسٹوڈنٹس کو پولیس تشدد کرکے گرفتار کروایا جبکہ گزشتہ روز وزیر صحت کے سربراہی میں منعقد اجلاس میں پرنسیپل کے نااہلی کے تمام ثبوت پیش کرنے کے بعد بھی حکومت نے اب تک ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جبکہ کالج کے سربراہ اب مزید کرسی بیٹھنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، بلوچ ڈاکٹرز فورم، پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو بھی اس حوالے سے آغا کردیا گیا ہے ترجمان نے کہا کہ اگر فوری طور پر طلباء کے مطالبات منظور نہیں کیے گئے تو طلباء بلوچستان سمیت ملک بھر میں احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔


