لندن/فرینکفرٹ (پریس ریلیز) فری بلوچستان موومنٹ کی جانب سے پاکستان کی نام نہاد یوم آزادی کو بطور یوم سیاہ منایا، برطانیہ کے شہر لندن اور جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں احتجاج کیا گیا۔
لندن میں فری بلوچستان مومنٹ یو کے برانچ نے دن کے 2 بجے سے لے کر شام 4 بجے تک پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے اپنا احتجاج منعقد کیا۔ احتجاج میں فری بلوچستان مومنٹ کے ممبروں کے علاوہ، دوسرے سیاسی اور سماجی بلوچ ورکرز نے شرکت کی۔ احتجاج میں سیاسی ایکٹیوسٹس نے اپنے ہاتھوں میں بینرز، پلے کار اور بلوچستان کا جھنڈا اٹھایا اور بلوچستان پر پاکستان کی قبضے اور وہاں بلوچوں کی نسل کشی کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔
ادھر جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں فری بلوچستان موومنٹ نے عین اُسی وقت اپنا احتجاج شروع کیا جب پاکستانی کونسلیٹ میں پاکستانی کمیونٹی نے اپنی نام نہاد یوم آزادی کے لئے جشن کا اہتمام کیا تھا جو جرمنی کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہونا تھا۔
فری بلوچستان موومنٹ کا بھی اعلان کردہ احتجاج صبح 11 بجے شروع ہوا۔ مظاہرین نے مقبوضہ بلوچستان پر پاکستانی قبضے اور مظالم کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور بلوچ قومی بیرک لہرایا۔ احتجاج کا آغاز بلوچ قومی ترانے سے ہوا۔ پاکستانی کونسلیٹ کے سامنے احتجاج کے علاوہ پاکستانی کونسلیٹ سے لیکر فرینکفرٹ کے مرکزی ٹرین اسٹیشن تک ریلی بھی نکالی گئی۔
مظاہرین سے محمد فارس، محمد بخش راجی بلوچ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے بلوچستان پر غیر قانونی پاکستانی قبضے، بلوچستان میں پاکستانی فوج کے مظالم، جبری گُمشدگیوں اور قتل و غارت گری کی شدید الفاظ مذمت کی۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان کے وجود سے پہلے یہ پورا خطہ پرامن اور خوشحال تھا مگر جب سے پاکستان بنا ہے اس پورے خطے میں بدامنی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اس پورے خطے میں دہشت اور وحشت پھیل گئی ہے۔ پاکستان کے شر سے صرف بلوچ قوم متاثر نہیں بلکہ اس پورے خطے میں بسنے والے لوگ اس سے متاثر ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان ایک ناسور ہے اور جب تک یہ قائم اور طاقت ور رہے گا اس خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ سب سے پہلے تو خطے کا امن بلوچ وطن سے وابسطہ ہے اور جب تک بلوچ قوم کا مسئلہ آزادی حل نہیں ہوتا بلوچ کسی طرح بھی اپنی قومی جدوجہد کو ختم نہیں کرے گا جو خطے میں امن و استحکام کے لئے ایک سوال رہے گا۔ بلوچ عالمی قوانین کے مطابق اپنی سرزمین کے دفاع اور کھوئی ہوئی آزادی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے پاکستانی ریاست بلوچوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کررہا ہے جس کی دنیا کے قوانین اجازت نہیں دیتے مگر تعجب اور تشویش اس بات پر ہوتی ہے کہ عالمی قوانین کو نافذ کرنے والی قوتیں اپنا وہ کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں جو ان کو ادا کرنی چاہئیے۔
مقررین نے مزید کہا کہ ہماری جدوجہد بلوچوں کی جدوجہد ہے جس کی منزل صرف اور صرف ایک آزاد اور خودمختار بلوچ وطن کا قیام ہے ۔ بلوچ وطن کی بحالی نہ صرف خطے کے مفاد میں ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔


