رپورٹ: عبیدللہ
آج بحرین میں منعقدہ عرب لیگ کونسل کے تینتیسویں اجلاس میں 22 عرب ملکوں کے سربراہوں کا اجلاس اختتام پذیر ہوا جس میں غزہ کی جنگ اور خطے کے دیگر مسائل اور علاقائی چیلنجز پر توجہ مرکوز کی گئی۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے عرب سربراہی اجلاس کے اختتام پر بحرین کے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موجودہ سربراہی اجلاس میں اختلافات اور کشیدگی کے باوجود عرب حکومتوں اور سفارت کاروں کا موجودگی ایک”بے مثال شرکت” ہے۔
سربراہی اجلاس کے دوران رہنماؤں نے غزہ کی صورتحال پر توجہ مرکوز کی اس اجلاس میں سربراہوں نے حتمی بیان میں دو ریاستی حل کے نفاذ تک “مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں” بین الاقوامی افواج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔
بیان میں “تمام فلسطینی دھڑوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن PLO کی چھتری تلے جمع ہوں کیونکہ پی ایل او ہی “فلسطینی عوام کا واحد جائز اور نمائندہ تنظیم سمجھتا ہے۔”
بیان میں غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی کوششوں میں اسرائیل کی رکاوٹ اور اسرائیلی کارروائیوں کو جنوبی شہر رفح تک توسیع دینے اور رفح کراسنگ پر اس کے کنٹرول کی مذمت کی گئی ہے۔” بیان میں فلسطینی عوام کو زبردستی بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔
22 عرب ممالک کے سربراہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس اور بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کی طرف سے “اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کے مطالبے کی حمایت کی تاکہ مسئلہ فلسطین کو دو ریاستی حل کی بنیاد پر حل کیا جا سکے۔ “
اسی مسئلہ کے سیاق و سباق میں سربراہی اجلاس کے حتمی بیان میں بحیرہ احمر، بحیرہ عرب، بحیرہ عمان اور خلیج عرب میں “تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے جس سے جہاز رانی کی آزادی بین الاقوامی تجارت اور ملکوں اور لوگوں کے مفادات کو خطرہ ہے بیان میں عالمی تجارت کے آزادی کو یقینی بنانے کے عزم پر زور دیا۔
حتمی بیان میں بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور عرب رہنماؤں کی جانب سے منظور شدہ مطالبہ پر زور دیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اقوام متحدہ کے زیرنگرانی ایک بین الاقوامی کانفرنس انعقاد کیا جائے تاکہ فلسطین کی ریاست کو مکمل طور پر تسلیم کرانے اور اقوام متحدہ میں اس کی رکنیت کو قبول کرانے کی کوششوں کی حمایت یقینی ہوجائے۔
بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے سربراہی اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں وضاحت کی کہ منامہ خطے کے تمام لوگوں کے لیے پائیدار امن اور سلامتی کے حصول کے لیے مشترکہ عرب چینلز اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے بحرینی بادشاہ کے پیش کردہ اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کا خواہاں ہے۔
سربراہی اجلاس کے دوران، فلسطینی صدر محمود عباس نے زور دیا کہ “فلسطینی عوام کے خلاف تباہ کن جنگ کو ختم کیا جانا چاہیے اور انہیں 1967 کی سرحدوں پر اپنی ریاست قائم کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیلی جارحیت امریکی سیاسی اور فوجی حمایت سے کی جا رہی ہے۔”
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ ان کا ملک مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیے پرعزم رہے گا۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ “اپنی ذمہ داریوں اور جنگ بندی سے بھاگ رہا ہے۔”
تیونس نے اس بات پر زور دیا کہ انکا ملک ان تمام اقدامات اور نظریات کا مخالفت کریگی جو “نسل پرست استعماریت کو دوام دینے اور فلسطینی عوام کو تباہی کی جنگ کا نشانہ بنانے” میں معاون ہیں۔
عرب سربراہی اجلاس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بھی انسانی ہمدردی کے مقاصد کے لیے غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی کے لیے اپنے مطالبے کی تجدید کی، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے مہاجرین (UNRWA) انسانی امداد کی رسائی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے بحرین میں منعقدہ عرب سربراہی اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ”اسرائیل کے لیڈروں کی سوچ پر اب بھی فریب کا راج ہے”۔
اپنی تقریر میں، ابو الغیط نے “زبردستی نقل مکانی” کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ “عرب، بین الاقوامی، انسانی اور اخلاقی طور پر ناقابل قبول ہے” اور کہا کہ “مغربی ممالک نے غزہ کی پٹی کے خلاف اپنی جارحیت کو جاری رکھنے کے لیے اسرائیلی قبضے کو کور فراہم کیا۔ “
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ عالمی برادری کو “غزہ کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے کام کرنا چاہیے اپنی تقریر کے دوران بن سلمان نے مطالبہ کیا کہ ایسے کسی بھی سرگرمی کو روکنا چاہیے جس سے سمندری نیوی گیشن کی سیکیورٹی متاثر ہو۔
یمنی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے خبردار کیا کہ “ملیشیائیں” خطے کی سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرتے ہیں اور خطے کے ممالک کی ترقی کے مواقع کو ضائع کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران، بحرین کے بادشاہ نے عرب سربراہی اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا اور ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ عرب سربراہی کا اگلا ایڈیشن عراق میں ہوگا۔
شام کے صدر بشار الاسد کی عرب سربراہی اجلاس میں شرکت دمشق کی عرب لیگ میں رکنیت بحال ہونے کے بعد دوسری ہے جب کہ ان کی حاضری تقریر کیے بغیر سننے تک محدود رہی۔
بحرین سربراہی اجلاس میں کس کس نے شرکت کی اور کون غیر حاضر رہا عرب سربراہی اجلاس میں شرکت سے غیر حاضر ہونے والوں میں الجزائر کے صدر عبدالمجید ٹیبوون، مراکش کے بادشاہ، محمد ششم، عمان کے سلطان، ہیثم بن طارق، کویت کے امیر، شیخ مشعل الاحمد الصباح، صدر مملکت تھے۔ تیونس، قیس سعید، متحدہ عرب امارات کے صدر، محمد بن زاید، اور سوڈان میں عبوری خودمختاری کونسل کے صدر عبدالفتاح البرہان۔ جبکہ بحرین سربراہی اجلاس میں شرکت کی ان میں فلسطینی صدر محمود عباس، اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، موریطانیہ کے صدر محمد اولد شیخ غزوانی، عراق کے صدر عبداللطیف جمال راشد۔، لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی۔، یمن میں صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد محمد العلیمی۔، لیبیا کی صدارتی کونسل کے سربراہ محمد یونس المنفی، یونائیٹڈ کوموروس کے صدر غزالی عثمانی، صومالیہ کے وزیر اعظم حمزہ عبدی باری، جمہوریہ جبوتی کے صدر اسماعیل عمر گویلہ، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، شام کے صدر بشار الاسد شامل تھے۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس عرب سربراہی اجلاس میں سربراہوں کے درمیان غیرمعمولی ہم آھنگی کی بنیادی وجہ ایران اور اسرائیل کی ریشہ دوانیوں کے سامنے عرب ممالک کی بے بسی اور انکے قومی مفادات کے تحفظ کے حوالے عالمی قوتوں کا عدم دلچسپی وہ محرکات ہیں کہ جنہیں شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہوئے وہ اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اب انفرادیت پسندی، عرب اجتماع سے سرکشی اور معمولی تنازعات کا شکار ہونے کے بجائے متحدہ عرب مفادات کے چھتری تلے دنیا کا سامنا کیا جانا چاہیے۔


