کوئٹہ/کراچی(ہمگام نیوز) برمش یکجہتی کمیٹی شال اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی جانب سے مقبوضہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ اور کراچی میں شہید حیات بلوچ کی قابض ایف سی اہلکار کے ہاتھوں قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں سول سوسائیٹی کی جانب سے بڑی تعداد میں شرکت کی گئی۔ مظاہرے میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شریک تھی۔
مظاہرہ کوئٹہ اور کراچی پریس کلب کے سامنے منعقد کئے گئے۔ مظاہرین سے خطاب کے دوران مقررین نے ایف سی اہلکار کے ہاتھوں بے گناہ نوجوان حیات بلوچ کو شہید کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
مقررین نے کہا کہ ماں باپ اپنے بچوں کو بڑی ناز اور امیدوں سے پال پوس کر بڑا کرتے ہیں کہ یہ ان کا سہارا بنیں گے مگر انسانیت سے عاری درندہ صفت نام نہاد محافظ انہیں بے گناہ والدین کے سامنے دن دھاڑے قتل کردیتے ہیں۔ اس وقت بلوچ ہونا ہی ایک جرم ٹھہر گیا ہے اور اگر بد قسمتی سے بلوچ تعلیم یافتہ ہو تو جُرم بڑھ جاتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ قابض ریاست ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں سے خوف زدہ ہے۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ شعور اور علم قابض اور مقبوض کے درمیان لکیر اور فرق کو واضح کردیتا ہے اور یہ وضاحت ایک قابض کے لئے نا قابل برداشت ہے۔ اس شعور میں قابض کو اپنی چھپی موت نظر آتی ہے اور وہ خوف زدہ ہوکر شعور کے خاتمے کی تدبیریں سوچھنے لگتا ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ ریاست نے بلوچستان اور بلوچ معاشرے میں خوف کا ماحول بنا رکھا ہے اور وہ بلوچ قومی سیاست کو بندوق اور خوف کے سائے میں دبا کر اپنے غیر قانونی و غیر اخلاقی قبضے کو اس خوف کے ذریعے وسعت دینا چاہتا ہے تاکہ اس کی زبردستی قائم کی گئی خوف کی عمارت کی اینٹیں مضبوط رہیں اور وہ اسی طرح بلوچستان سمیت دیگر مقبوضہ و مفتوحہ علاقوں میں اپنی ناجائز اجارہ داری قائم رکھ سکے۔
مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر عالمی اداروں کو کردار ادا کرنے کی درخواست کے مختلف نعرے درج تھے۔


