کوئٹہ (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ کے ترجمان نے میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان کے علاقے کوئٹہ میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں نے کوئٹہ میں واقع نیوکاہان کی آبادی میں 13اور 14اگست کی درمیانی شب بھاری نفری کے ہمراہ رات کی تاریکی میں گھروں پر چھاپے مار کر وہاں موجود 10 افراد کو جبری اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ ریاستی اداروں نے خواتین و بچوں میں سخت خوف ہراس پھیلایا۔ ان جبری اغواہ شدگان میں لعل خان ولد خدائے رحم، لعل داد ولد خدا رحم، رحیم خان ولد شاہ بیگ، شاہ بخش، اللہ بخش، وشال، محمد میر عجب خان، کمال خان اور امید علی شامل ہیں۔
پارٹی ترجمان نے مزید بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پیرا ملٹری فورس ایف سی نے تربت میں ظلم کی انتہا کرتے ہوئے جمعرات کے روز باغ میں گھس کر کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم فزیالوجی کے نوجوان طالب علم حیات مرزا بلوچ کو ان کے والد اور بھائی کے سامنے گرفتار کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد نوجوان کے ہاتھ پیر باندھ کر گھسیٹتے ہوئے سڑک پر لے گئے۔ وحشی اور انسانیت سے عاری ایف سی اہلکاروں نے ہاتھ پیر بندھے نوجوان کو سڑک پر لٹا دیا جس کے بعد اس پر انتہائی بے رحمی سے سرعام گولیوں کی چھوڑ کردی۔ نوجوان کو 9 گولیاں لگیں جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
ایف بی ایم کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہاکراچی میں جبری اغوا شدہ نسیم بلوچ کی بازیانی کیلئے احتجاج کرنے والی ان کی منگیتر حانی گل بلوچ اور سندھ سے تعلق رکھنے والے جبری اغواء کے شکار افراد کے لواحقین سارنگ جویو کی اہلیہ سونی جویو، سسی لوہار، صورت لطیف اور دیگر پر پرامن احتجاج کے دوران پاکستانی پولیس کی جانب سے تشدد کی جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر کے گھر فائرنگ کے واقعے کو قابض ریاست کی جانب سے بوکھلاہٹ سمجھتے ہوئے اس کی مذمت کرتے ہیں۔ پاکستانی نام نہاد عدالت اور میڈیا بلوچستان میں فوج کی اس یزیدی ظلم و بربریت پر مکمل طور پر پردہ ڈال کر مجرمانہ خاموشی اختیار کیئے ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں بلوچ قوم کیلئے عالمی انسانی حقوق کے ادارے اور بین القوامی ذرائع ابلاغ کے ادارے ہی انصاف کے تقاضے پورا کرنے کیلئے مدد کرسکتے ہیں۔
ایف بی ایم کے ترجمان نے عالمی اداروں اور مہذب اقوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی وجہ سے مقبوضہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں جاری ہیں، اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہیگا جب تک عالمی و علاقائی طاقتیں پاکستانی ریاست کے مظالم کا نوٹس لے کر بلوچ قومی ریاست قائم کرنے میں مدد نہیں کرتے۔


