کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) لاپتہ بلوچ اسیران ، شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو2278دن ہوگئے اطہار یکجہتی کرنے والوں میں بی این ایم خضدار اورھنکین کا ایک وفد لاپتہ بلوچ اسیران شہدا کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئےkoakoآج حکمران بلوچیت کو منحوسیت قرار دے رہے ہں اور ان کے ساتھ بھی نسلی امتیاز کا برتا�ؤ کیا جارہاہے اور ان کی نسل کشی کی جارہی ہے ان کو انسانی کے درجہ سے بھی نیچے گرانے کے لئے ان کے خلاف بھرپور مہم چلائی جارہی ہے ان سب باتوں کا رویوں کاصرف ایک مطلب ہے کہ وہ یہ کہ بلوچ کے ہاتھ میں قلم اور کتاب کے بجائے بندوق آجائے تاکہ بلوچ نسل کشی کیلئے حکومت کو ایک جواز فراہم ہوسکے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچ بغاوت کر رہے ہیں وہ فورسز پر حملہ کر رہے ہیں وہ عالمی پراکسی اور میں ملک کے خلا ف ہونے والے ہونے والے سازشوں میں استعمال ہو رہے ہیں انہوں نے کہاکہ کچھ ایسی قوتملک دشمن ہیں کہ توڑ نا چاہتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو بیرونی ممالک بین الاقوامی ممالک قوت کی سازشوں اور خطے کی ہر پل بلدتی صورت حال کے منسابت سے ایک ایک قومی پسماندگی اور حسا س محرومی کو کسی گریٹ گیم کا حسہ اور پراکسی وار تسلیم بھی لیں تو بھی یہ سال پیدا ہوتا ہے کہ اس سازش کا مقابلہ کرنے اور پاکستان کو غیر مستحکم ہونے سے بچانے منطقی حل کیا ہونا چاہئے ۔ وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شاعروں پروفیسز ڈاکٹرز طلباء وکلاء سماجی کارکنوں کو اغواء کرنا ان کو لاپتہ کرنا ان کو ماروائے قانون شہید کرنااور ان کی مسخ شدہ لاشوں کو پھینکنا ان پر آپریشن کرنا ان کو تعلیمی اداروں سے دور کرنا اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ایک معمول ہے ۔


