کوئٹہ ( ہمگام نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2295دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بی ایس او کے سابقہ چیئرمین میر مہیم خان بلوچ سابقہ چیئرمین میر محمد آصف بلوچ نے لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا تسلسل ہر آنے والے دن کے ساتھ شدت اختیار کر رہے ہیں جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں نہ بلوچ قوم کو با وقار طورپر زندہ رہنے کا حق ہے اور نہ ہی اس ملک کے حکمرانوں کے بلند بان دعووں کے مطابق جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق حاصل ہے یہ طرز عمل اپنی ساخت میں نو آبادیاتی اور نتایج میں بلوچستان پرا پنا تسلط مضبوط بنانے اور بلوچ نسل کشی کا حامل ہے جس کا انحصار طاقت کے بے مہار سفاکانہ استعمال پر ہے اس بلوچ نسل کشی میں کھول اور وسیع پیمانے پر فورسز کی کارروائیوں کے علاوہ بلوچ حقوق کے بحالی کے لئے بلند ہونے والی ہر آواز کو خاموش کرنے کیلئے ٹارگٹ کلنگ ، اغواء نما گرفتاریوں مسخ شدہ لاشوں کے برآمدگی سمیت اٹھاومارو پھینکو کے ہتھنکنڈوں کا استعمال نمایا ہے اس پالسیی کے تحت اب تک 35ہزار سے زاہد بلوچوں کو خفیہ اداروں ، وفورسز کے ہاتھوں آٹھا کر لاپتہ کیا چکا ہے اور درندگی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے لاپتہ بلوچوں کو شہید کرکے انہیں سینکڑوں کی تعداد میں بہرے گڑھوں میں دبایا گیا ہے ۔ وائس فرا مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے بلوچ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ جس کا ثبوت خضدار کے علاقے توتک میں سینکڑوں لاپتہ بلوچوں کے اجتماعی قبروں کی صورت میں پوری دنیا دیکھ چکی ہے اور انہیں انسانیت سوز جنگی جرائم اور بلوچ نسل کشی قرار دیا جارہاہے ماما نے کہاکہ بلوچ قوم پر ستی کی دعویدار حکومت لاہور اور اسلام آباد کی نو�آبادیاتی قوتوں کے اپنے گماشتہ وجود کو بلوچستا ن میں جمہوریت کے نمونے کے طورپر پیش کر رہی ہے جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہاں بلوچ قوم کیلئے بولنے پر بابندی سوچنے پر تعزیریں اور اپنے ضمیر کے مطابق زندہ رہنے کی سزا گردن زنی ہے ۔


