کوئٹہ ( ہمگام نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران شہید کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2279دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بی ایس او آزاد خفدا ر زون کا ایک وفد لاپتہ افراد، شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور پھرپور تعان کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچ قومی تحریک کے چالیس سالہ جد وجہد بلوچ قومی نوجوانوں کی شہادت ظالم کے سامنے نہ جھکنے کے خلاف آواز بلند کرنے اور اپنے خون سے ایک نئی انقلابی تاریخ لکھنے کی صدائے بازگشت ہے جو اسلام آباد کے ایوانں سے ٹکرا رہی ہے کیونکہ پرامن اور جمہوری انداز میں دلیل اور منطق کی جنگ ہار نے کے بعد اپنی پوری قوت بلوچ قومی آواز کو دبانے کے لئے تاریخ کے بھیانکآپریشن کی شکل میں جھونک دی سرپرستی میں ڈیتھ اسکواڈ بنا کر بلوچ سیاسی رہنماوں کارکنوں کا قتل عام کیا پرامن جمہوری جماعتوں اور تنظیموں کو زیر زمین ہو نے اور ان کی کالعدم قرار دینے کی کوشش کی ہزاروں کی تعداد میں تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں بزرگوں بچوں کے مسخ شدہ لاشیں ویرانوں سڑکوں پر غیر انسانی طریقے سے پھینک دی گئی اور یہ سلسلہ ا ب بھی جاری ہے نہتے آبادیوں پر فضائی حملہ کیا جارہاہے چادر چاردیواری کی تقدس کو بوٹوں سے روندھتے ہوئے معصوم اور بے گناہ شہریوں کو گھروں سے اٹھا کر ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ کیا گیا ، مگر اس کے باوجود بلوچ قومی آواز ک دبانے قومی فکر کے کچلنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی بلوچستان کی نمائندہ کی اونٹ کے منہ میں زیر ہ آٹا میں نمک شور میں سرگوشی کے برابر نہیں ، ماما قدیر بلوچ نے آخر میں کہاکہ قومی آواز کے لئے بطور فورم استعمال کیا مگر یہاں بھی بلوچ قومی آواز کو بھر پور دبانے کی کوشش کی تاکہ ان نام نہاد ایوانوں میں بھی بلوچ ق قومی آواز کو بھرپور طاقت سے دبا کر خاموش کیا جاسکتے ۔


