کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ دو روز سے ماورائے عدالت گرفتار بہادر علی کیازھی (ٹکری) کو منظر عام پر نہ لانا نہایت ہی تشویشناک ہے۔ بہادر علی کیازھی کا خاندان جو گذشتہ دو روز سے شال میں احتجاج کر رہا ہے ان سے اظہار یکجہتی کےلیے کل بروز جمعہ شال میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے بلوچستان میں ماورائے عدالت گرفتاریوں کا تسلسل روانی کے ساتھ جاری ہے اور اِس عمل میں کسی قسم کی تفریق کو بالائےطاق رکھا جا رہا ہے۔ ظلم و جبر کی اس لہر میں جہاں روز نہتے عوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں لاپتہ افراد کا خاندان ایک کرب اور المناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایک جانب جہاں ماورائے عدالت گرفتاری اور گمشدگیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تو دوسری جانب گمشدہ افراد کو جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کیا جا رہا ہے۔ اِسی اثناء میں بہادر علی کیازھی کے خاندان کو بھی خدشہ ہے کہ ان کے پیارے کو کسی قسم کے جعلی پولیس مقابلے میں لقمہ اجل نہ بنایا جائے۔
بی وائی سی نے مزید کہا بلوچستان میں جاری اِس طرح کے انسانیت سوز واقعات کے خلاف بلوچ عوام جمہوری طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے تسلسل کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کرتی آ رہی ہے۔ شال سے لے کر کراچی تک اور کراچی سے لے کر اسلام آباد تک جبری لاپتہ افراد کے ورثا نے دھرنے اور احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کرتے ہوئے مقتدر قوتوں سے پیاروں کے بازیابی کی اپیل کرتے ہوئے انھیں منظر عام پر لانے کی درخواست کی لیکن تاحال حکومت کی جانب سے کسی قسم کی شنوائی نہ ہونے کے سبب دہائیوں سے لاپتہ اسیران تاحال بازیاب نہیں ہوئے۔ بہادر علی کیازھی کا خاندان بھی ان کی جبری گمشدگی پر مذکورہ دن سے تاحال دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔
بہادر علی کیازھی کے خاندان سے اظہار یکجہتی کے لیے کل بروز جمعہ شام چار بجے کوئٹہ (شال) بائی پاس پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ انسانی حقوق کے اداروں، سماجی تظیموں ، سیاسی پارٹیوں اور طلبا تنظیموں سمیت تمام انسان دوست افراد سے درخواست کی جاتی ہے کہ احتجاجی مظاہرے میں شرکت کر کے قوم دوستی اور انسان دوستی کا ثبوت دیں۔


