کوئٹہ(ہمگام نیوز) ایم ایڈ کا امتحان دینے والی طالبات نے اعلان کیا ہے کہ وہ مرد نگران امتحان کی جانب سے تلاشی لینے کے خلاف بطور احتجاج امتحانات کا بائیکاٹ جاری رکھیں گی۔
کل یہاں پریس کلب پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی بی عائشہ، بی بی زرّین اور بی بی عاصمہ نے کہا کہ جب بلوچستان یونیورسٹی میں امتحانات کا آغاز ہوا تو لڑکیوں کو یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ نگران امتحان کمیٹی کے مرد اراکین کنٹرولر کی نگرانی میں ان کی تلاشی لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لڑکیوں نے اس پر ردّعمل ظاہر کیا اور امتحانات کا بائیکاٹ کردیا، اس لیے کہ یہ عمل اسلامی اقدار اور اخلاق کے خلاف ہے۔
اگلے دن انہوں نے اس کے خلاف ایک مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس کو طلب کرلیا، جس نے لڑکیوں پر لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں پانچ لڑکیاں زخمی ہوگئیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ امتحانات کے دوران نقل کو روکنے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کی کوششوں کی حمایت کرتی ہیں، لیکن مرد نگران کی جانب سے لڑکیوں کی تلاشی کی اجازت نہیں دیں گی۔
انہوں نے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ وائس چانسلر اور نگران کمیٹی کے خلاف کارروائی کرے۔


