( ہمگام نیوز ) مقبوضہ مغربی بلوچستان کے شہر پشامگ سے اغواہ ہونے والے بلوچ مزاحمتی سرمچار شہید جہانگیر عرف کیپٹن کی لاش بر آمد غالب امکان یہی ہے کہ پاکستانی بدنام زمانہ انٹیلیجنس ( آئی -ایس-آئی) اور ایرانی ( اطلاعات )کی مشترکہ منصوبے اور در پردہ حمایت سے پروکیسی گیمز کے تحت ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے کل شام جہانگیر کو ایک ایسے مقام سے اغواہ کیا گیا جہاں ایک ہی شہر کے آس پاس ایک درجن کے قریب فورسز کے چیک پوسٹ واقع ہے۔بلوچ فرزند شہید جہانگیر عرف کیپٹن کو اس وقت اغواہ کیا کیا گیا جب وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے ان کے گھر جارہے تھے۔ اور آج شہید کی تشدد زدہ لاش بر آمد ہوا ہے۔اس کے علاوہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مغربی بلوچستان کے شہر سراوان سے ایک اور بلوچ فرزند کو جبری اغواء کرنے کی اطلاعات بھی یے ۔ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکن پاکستان و ایران کی مشترکہ طور پر بلوچ نسل کشی اور ظلم و بربریت کے خلاف سوشل میڈیا کے زریعئے دنیا میں آگاہی مہم چلائے۔


