تہران (ہمگام نیوز ڈیسک) ہمگام نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے شمال مغربی صوبے آذربائیجان میں ایک ڈیم کی افتتاحی تقریب کے دوران خبر رساں ادارے روئٹرز کوبیان دیتے ہوئے کہا، کہ ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ’انھیں یہ غلط فہمی ہے کہ وہ ایران کی شان و شوکت کو ختم کر سکتے ہیں ،بقول ان کے مشکلات اور پابندیوں کے دنوں میں نئے منصوبوں کا افتتاح، ہماری جانب سے وائٹ ہاؤس کو پرعزم جواب ہے۔‘ایران کی جانب یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کی قیادت چاہے تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات مذاکرات کے لیے سازگار نہیں اور ایران کے پاس واحد راستہ مزاحمت ہے۔
حسن روحانی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے ’تمام تر سیاسی اور معاشی دباؤ کے باوجود ایرانی عوام کسی دھمکی کے سامنے نہیں جھکے گے۔‘دوسری طرف امریکہ کے قائم مقام سیکرٹری دفاع پیٹرک شانان نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کو جوابی اقدامات سے ’روک دیا گیا ہے۔‘
انھوں نے پینٹاگون میں صحافیوں کو بتایا ’میرے خیال میں ہمارے اقدمات بہت دانشمندانہ تھے اور ہم نے امریکیوں پر ممکنہ حملوں کو روک دیا ہے جو کہ بہت اہم ہے۔‘
’میں یہ کہوں گا کہ ہم اس وقت میں ہیں جہاں خطرہ ابھی بھی زیادہ ہے اور ہمارا کام اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایرانیوں کی جانب سے کوئی غلطی نہ ہو۔‘
اس سے قبل سوموار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اسے ’بھرپور قوت‘ سے جواب دیا جائے گا۔
امریکی صدر نے ان اطلاعات کی تردید بھی کی تھی جس کے مطابق امریکہ ایران سے مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا ’جب ایران تیار ہو اور مذاکرات کرنا چاہے تو ہم سے رابطہ کر سکتا ہے۔‘


