کوئٹہ (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق 20 ستمبر 2018 کو سریاب کوئٹہ سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر اغوا شمش الدین ولد قمر الدین بنگلزئی کی بوڑھی والدہ نے ملکی اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کیا ہے کہ انکے بیٹے کی بحفاظت بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں.
انہوں نے کہا ہے کہ انکے بیٹے کو پہلے بھی دو مرتبہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے بغیر کسی جرم کے جبری طور پر اغوا کیا تھا.
وضح رہے، مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندوں کو جبری طور پر اغوا کر چکی ہے، وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے مطابق بلوچستان سے گزشتہ ایک دہائی میں چالیس ہزار سے زائد نوجوانوں، بوڑھوں، بچوں اور خواتین کو جبری طور پر اغوا کیا جا چکا ہے جبکہ ہزاروں بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے برآمد کی گئی ہیں، اور یہ تعداد آئے دن بڑھتی جا رہی ہے.


