چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںنائن الیون کے بعد امریکی جنگ "پانچ لاکھ افراد" کو نگل چکی...

نائن الیون کے بعد امریکی جنگ “پانچ لاکھ افراد” کو نگل چکی ہے

( ہمگام نیوز )
ویب ڈیسک کے ایک رپورٹ کے مطابق گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد شروع کی جانے والی دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے دوران عراق اور افغانستان میں تقریباً نصف ملین یعنی پانچ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی براؤن یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات اور عوامی امور کے شعبے کی جانب سے کرائے گئے ایک جائزے کے مطابق انسداد دہشت گردی کی امریکی جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ اسی ہزار سے لے کر پانچ لاکھ سات ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔ تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

اس جائزہ رپورٹ کو نیٹا کرافورڈ نے مرتب کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ امریکی اور مقامی فوج ہلاک ہونے والوں کو اکثر شدت پسند قرار دے دیتی ہے حالانکہ حقیقت میں یہ عام شہری ہوتے ہیں، ’’ہمیں شاید کبھی بھی اس جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد کا علم نہیں ہو سکے گا۔ مثال کے طور پر عراق میں موصل اور دیگر شہروں کو داعش کے ہاتھوں سے آزاد کرانے کی لڑائی میں ہو سکتا ہے کہ ہزاروں عام شہری مارے گئے ہوں، لیکن ان کی لاشیں برآمد نہیں ہو سکیں‘‘۔

اگست 2016ء میں براؤن یونیورسٹی نے اس سلسلے میں ایک جائزہ شائع کیا تھا، تاہم جمعرات آٹھ نومبر کو جاری کیے جانے والے اس تازہ جائزے میں مرنے والوں کی تعداد میں گزشتہ جائزے کے مقابلے میں ایک لاکھ دس ہزار کا اضافہ دیکھا گیا ہے، ’’امریکی عوام، ذرائع ابلاغ اور قانون دانوں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن ہلاکتوں میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ختم ہونے کی بجائے اس جنگ میں شدت بدستور موجود ہے۔‘‘

اس جائزے کے مطابق ان سترہ برسوں میں ہلاک ہونے والوں میں شدت پسند، مقامی پولیس اور فوج کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے علاوہ امریکی و اتحادی افواج کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

عراق اور افغانستان میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد سات ہزار کے قریب رہی۔ ان اعداد و شمار میں مارے جانے والے ان تمام افراد کو شامل نہیں کیا گیا، جو بالواسطہ طور پر اس جنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے،

یہ بھی پڑھیں

فیچرز