چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںنقیب اللہ قتل کیس اہم چشم دید گواہ کو لاپتہ کردیا گیا:...

نقیب اللہ قتل کیس اہم چشم دید گواہ کو لاپتہ کردیا گیا: تفتیشی افسرڈاکٹر رضوان احمد خان

کراچی(ہمگام نیوزڈیسک ) کراچی میں اعلی پولیس افسر راو انور کے ہاتھوں نقیب اللہ قتل کیس کے تفتیشی افسر نے سندھ ہائیکورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ راؤ انوار سمیت دیگر ملزمان انتہائی سفاک، چالاک، بااثر اور طاقتور افسران رہے ہیں جنہوں نے واقعے کے اہم چشم دید گواہ کو لاپتہ کردیا ہے۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ مسعود کو 13 جنوری کو ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

سندھ ہائیکورٹ میں نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی راؤ انوار و دیگر کی ضمانتیں منسوخ کرنے سے متعلق معاملے پر سماعت ہوئی۔

دوران سماعت تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان احمد خان نے عدالت میں تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ نقیب اللہ قتل کیس کے اہم چشم دید گواہ کو لاپتہ کردیا گیا ہے۔تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان نے عدالت میں انکشاف کیا کہ راؤ انوار سمیت ملزمان انتہائی سفاک، چالاک، بااثر اور طاقتور افسران رہے ہیں اور انہوں نے واقعے کے واحد چشم دید گواہ کو لاپتا کرا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چشم دید گواہ ملزمان کے اثرورسوخ کے باعث پہلے ہی بیان سے منحرف کرایا جاچکا تھا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گواہ کا لاپتا کیا جانا ملزمان کے اثرورسوخ کا یہ منہ بولتا ثبوت ہے۔

تفتیشی افسر نے عدالت میں خدشات کا اظہار کیا کہ اگر ملزمان کی ضمانتیں منسوخ نہ کی گئیں تو سب گواہ اپنے دیئے گئے بیان سے منحرف ہو سکتے ہیں جبکہ ملزمان گواہوں کو ڈرا دھمکا کر بیان بدلنے پر بھی مجبور کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انتہائی موثر ڈیجیٹل شہادتوں سے ملزمان کو سزا ممکن ہے اور ساتھ ہی عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی کہ عدالت راؤ انوار و دیگر ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرنے سے متعلق مناسب حکم صادر فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز