اسلآم آباد(ہمگام نیوزڈیسک) پاکستان کی بدحال معیشت اور بھاری قرضوں کے بوجھ تلے اقتصادی صورتحال میں روز بروز پہلے سے پسے عوام کی مشکلات میں پٹرول اور ایل پی جی کے بعد عوام کو بجلی کا جھٹکا، تفصیلات کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں 81 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر دیا ہے۔بجلی صارفین پر 5 ارب 20 کروڑ کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔نیپرا کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے 3 ارب کا بوجھ پڑا۔
فروری میں پانی سے 22.77 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔سی پی اے نے بجلی کے نرخوں میں ایک روپے 23 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی۔فروری کی( فیول ایڈجسمنٹ) جو کہ نرخ بڑھانے کی ایک بہانہ ہے کی مد میں بجلی مہنگی کی گئی۔اس سے قبل پیٹرول اور ایل پی جی کی قیمتوں می بھی اضافی کیا جا چکا ہے اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں 3.47 روپے کا اضافہ کیا جس کے بعد ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں بھی 41 روپے کا اضافہ ہو گیا۔
3.47 روپے فی کلو اضافے کے بعد ایل پی جی کی فی کلو قیمت 133 روپے ہو گئی۔ اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اوگرا نے وزارت پٹرولیم ڈویژن کی منظوری کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ اوگرا کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے نوٹی فکیشن کے مطابق پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 6روپے جبکہ لائٹ اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 3، 3روپے اضافہ کردیا گیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 6 روپے اضافے کے بعد نئی قیمت 98روپے 89پیسے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی 6 روپے اضافے کے بعد نئی قیمت117 روپے 43 پیسے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 3 روپے اضافہ کے بعد 80 روپے 54 پیسے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی نئی قیمت 3 روپے اضافے کے بعد 89 روپے 31پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ واضح رہے کہ اوگرا نے وزارت پٹرولیم کو ایک سمری ارسال کی تھی جس میں یکم اپریل سے پیٹرول کی قیمت میں 11 روپے 92 پیسے اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔ سمری میں ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 17 پیسے فی لٹر اضافے کی تجویزدی گئی تھی۔ اوگرا کی جانب سے مٹی کےتیل کی قیمت میں 6 روپے 65 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بھی 6 روپے 50 پیسے بڑھانے کی سفارش کی گئی تھی۔


