سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںپابندیوں سے ایرانی تیل کی درآمد کو کم کرکےچارنومبرتک صفر پرلانا ہے،؛امریکہ

پابندیوں سے ایرانی تیل کی درآمد کو کم کرکےچارنومبرتک صفر پرلانا ہے،؛امریکہ

واشنگٹن (ہمگام نیوز ویب ڈیسک) مشرق وسطی کی سیاست میں ایرانی دہشتگردی کو لگام دینے اور عالمی امن کی خاطر ایران کے جوہری صلاحیت کو قابو میں رکھنے کیلئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بڑھانے اور ان پر سختی سے عملدارآمد کے لیے ایک نئی اور اعلیٰ سطح کی ٹیم کا اعلان کیا ہے جس کا نام ’ایران ایکشن گروپ‘ رکھا گیا ہے۔ ایران ایکشن گروپ تہران کے رویے کو تبدیل کرنے اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے دیگر ممالک پر پابندیاں لگانے کے لیے واشنگٹن کی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی پر کام کریگا۔ اس گروپ کی قیادت برائن ہُک ایران کے لیے محکمہ خارجہ کے خصوصی نمائندے کے حیثیت سے کرینگے۔ مائیک پومپیو کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ’تقریباً 40 سال سے ایرانی حکومت ہمارے اتحادیوں،شراکت داروں اور ایرانی عوام کے خلاف تشدد کو ہوا دینے اور غیرمستحکم کرنے والے رویے کی ذمہ دار ہے۔ جب کہ مستقبل میں ہم ان پالیسیز کو بدل دینگے اس حوالے سے امریکی حکومت کی ایران سے مطالبات کی ایک طویل فہرست ہے جن میں شامی حکومت اور حزب اللہ کی حمایت بند کرنا، جوہری پروگرام کی بندش، امریکی قیدیوں کی رہائی، دہشت گردی کی معاونت روکنا اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور مداخلت بند کرنا شامل ہیں ۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’ہم دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی مطابقت چاہتے ہیں۔‘
امریکی نماہندہ برائن ہک نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے دیگر ممالک کو ساتھ ملانے کے لیے کوشش بڑھا رہا ہے۔ اس اقتصادی دباؤ میں ایران کی تیل کی تجارت کا کریک ڈاؤن، کرکے فنانشل سیکٹر اور شپنگ کی صنعت بھی شامل ہے۔برائن ہک کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ٹیم ایرانی رویے کو تبدیل کرنے کے لیے مضبوط عالمی کوشش پر کاربند ہے۔‘’ہمارا مقصد ہر ملک میں ایرانی تیل کی درآمد کو کم کرکے چار نومبر تک صفر پر لانا ہے۔‘تب ہی یہ ممکن ہوگا کہ ہم اپنے اہداف کو کامیابی کے ساتھ حاصل کرسکے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز