چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںپاسداران انقلاب پرحملہ کرنے والاخودکش حافظ محمد علی ’پاکستانی‘ تھا:ایرانی کمانڈر برگیڈیئرجنرل

پاسداران انقلاب پرحملہ کرنے والاخودکش حافظ محمد علی ’پاکستانی‘ تھا:ایرانی کمانڈر برگیڈیئرجنرل

تہران(ہمگام نیوز ڈیسک) ایران کی ایلیٹ فورس کے انقلاب بریگیڈیئر جنرل نے بلوچستان کے شہر زاھدان خاش میں کیئے گئے خودکش حملہ بارے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے پاسداران انقلاب کے اہلکاروں پر حملہ کرنے والا شخص ’پاکستانی‘ تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے (AFP )کے مطابق ایلیٹ فورس کی نیوز ایجنسی ’سپاہ‘ نے بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل پاکپور کا حوالہ دیا جس میں انہوں نےٰ کہا کہ ’خودکش حملہ آور جس کا نام حافظ محمد علی تھا جو پاکستان سے آیا تھا‘ ۔ایرانی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل نے کہا کہ ’دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کے ماڈل کی جانچ پڑتال سے تحقیقات میں مثبت پیش رفت ہوئی‘۔

پاکپور کا کہنا تھا کہ ’دو روز قبل پہلا ثبوت وہ خاتون تھی جسے شناخت کے بعد گرفتار کیا گیا اور اسی خاتون کی وجہ سے ہم دیگر تک پہنچے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’خودکش حملہ آور کے علاوہ اس کا ایک مشتبہ ساتھی بھی پاکستانی تھا‘۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے مزید کہا کہ ’مذکورہ حملہ 11 فروری کو ایرانی انقلاب کی 40ویں سالگرہ پر کیا جانا تھا لیکن ہمارے سیکیورٹی فورسز نے تقریب کے لیے ’تمام حفاظتی تیاریاں‘مکمل کی ہوئی تھیں‘۔واضح رہے کہ 13 فروری کو پاسداران انقلاب کے اہلکارایران کے زیر قبضہ بلوچستان کے شہر خاش سے زاہدان کی طرف جارہے تھے کہ ان کی بس کو خودکش بم حملے سے نشانہ بنایا گیا۔اس حوالے سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اس حملے کو ’خطے کی بعض خفیہ ایجنسیوں‘ کا کارنامہ قرار دیا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے بدلہ لینے کی قسم کھائی تھی اور کہا تھا کہ بقول ان کے ’امریکہ اور اسرائیل سمیت خطے میں بعض تیل بردار ممالک حملہ آوروں کو مالی امداد فراہم کرتی ہیں‘۔یاد رہے کہ پاسداران انقلاب کی بس پر خودکش حملے کی ذمہ داری تنظیم ‘جیش العدل’ نے قبول کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز