لندن ( ہمگام نیوز ) بلوچ رہنما و فری بلوچستان موؤمنٹ کے سربراہ حیربیار مری نے سوشل میڈیا کے ویب سائٹ فیس بک پر زیر نظر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ” محب وطن لوگ اپنی ملک کے پرچم، اپنی مذہبی علامت اور دیگر اشیا پر بوسہ دے کر احترام و محبت کا اظہار کرتی ہیں. پاکستان کا پرچم آل انڈیا مسلم لیگ نے متعارف کیا تھا. جو 1906 میں ہندوستانی مسلمانوں کے ایک وفد کا بھارت کے وائسرائے، لارڈ مِنٹو کے ساتھ ملاقات کے بعد وجود میں آیا تھا. اپنی پہلی کانفرنس میں اس پارٹی نے اپنی اغراض و مقاصد واضح کرتے ہوئے “بھارت کے مسلمانوں کے درمیان برطانوی حکومت سے وفاداری کی احساس کو فروغ دیا. پاکستانی پرچم مسلم لیگ کے پرچم کی ماخوذ ہے جبکہ اس پارٹی کا وجود بھارت میں برطانوی سلطنت کی مرہون منت تھا.جب مسلمانوں نے ہندوستان فتح کیا تو کئی ہندوستانیوں کو بزور شمشیر مسلمان بنایا گیا، جبکہ کچھ ہندوستانیوں نے جزیہ سے بچنے کے لیے اسلام قبول کیا، جزیہ ایک لازمی ٹیکس ہے جو غیر مسلمانوں کی جانب سے مسلمان حکمرانوں کو ادا کیا جاتا ہے. یہ لوگ جنہوں نے 1857 میں پہلی ہندوستان کی جنگ آزادی کے خاتمے میں سلطنت برطانیہ کی مدد کی اور بعد میں پاکستان بنایا، انہی ابتدائی ہندوستانی مسلمانوں کے اولاد تھے جنہوں نے جزیہ سے بچنے اور معاشی فوائد کے لئے اسلام کا انتخاب کیا. یہی وجہ ہے کہ پاکستانی مسلمان پنجابیوں کے ہاں احساس کمتری کی رجحان کو دیکھا جا سکتا ہے جو یہ ابھی بھی ایک شناختی بحران میں گزر رہے ہیں. ان کے خیال میں طاقت کے بل بوتے پر دیگر اقوام کی وفاداریوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے یا مراعات دے کر انہیں خریدا جاسکتا ہے جس طرح ان کے آباؤ اجداد نے کیا.
حیربیارمری نے کہا کہ تاریخ کی صفحات گواہ ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ محکوم کا گلا گھوٹا اور ظالم کے سامنے سجدہ ریزی کی. انہوں نے اپنی ہی مادر وطن سے غداری کرکے ہندوستان کو تقسیم کرنے اور اپنی ہی ہندوستانی ہم وطنوں پر ظلم ڈھانے میں سلطنت برطانیہ کی مدد کی، اور پاکستان بننے کے بعد یہ بلوچ اور افغان جیسے کمزور مسلمان اقوام پر مظالم کرتے آ رہے ہیں.
انہوں نے زیر نظر ویڈیو کے حوالہ دیکر کہا کہ یہ ویڈیو کچھ ہفتوں پہلے سامنے آئی، اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان آرمی کے اہلکاروں کی جانب سے پاکستان-افغانستان کے سرحد پر افغان مزدوروں پر زبردستی کیا جارہا ہے کہ وہ پاکستانی پرچم کا بوسہ لیں.
انہوں نے کہا یہ پرچم جس کی کوئی قدر و قیمت نہیں، اس کو بنانے والے اپنی ہی مادر وطن پر قبضہ گیر کے وفادار تھے. کیا اب پاکستان آرمی اس اصول کو افغان احکام پر بھی لاگو کرے گی، ان کو بھی پاکستانی پرچم پر بوسہ لینے کے لیے مجبور کیا جائے گا جب وہ سرحد پار کررہے ہونگے یا یہ اصول محض تنگ دست افغان مزدوروں کے لیے ہے جو اپنی روزی روٹی کے لیے محنت و مزدوری کررہے ہیں.


