سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںپاکی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کا دورہ افغانستان

پاکی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کا دورہ افغانستان

کابل (ہمگام ویب نیوز ) اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کی کابل روانگی سے قبل پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفورا نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے بقول ان کے کہ پاکستان افغانستان کی اتحادی حکومت، امریکہ اور نیٹو فورسز کی طرف سے ملک میں قیامِ امن کی کوششوں کی کامیابی کا خواہاں ہے۔افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں میں بھی حالیہ مہینوں کے دوران تیزی آئی ہے۔صدر اشرف غنی نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ رواں ماہ 20 جون تک افغان طالبان کے خلاف جنگ بندی کا غیر مشروط اعلان کیا ہے جس کے جواب میں طالبان کی طرف سے عیدالفطر کے موقع پر تین روز کے لیئے حملے روکنے کے بیان سامنے آیا ہے۔گزشتہ ہفتے ہی امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دیگر معاملات کے علاوہ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔امریکی حکومت کی ایک اعلیٰ عہدیدار لیزا کرٹس نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ امریکہ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں افغان حکومت کی مدد کرے۔
اُس ملاقات کے بعد فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری ایک بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان وفد سے کہا تھا کہ طویل تنازعات سے دونوں ممالک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان مل کر خطے میں امن کا راستہ تلاش کریں۔مئی کے اواخر میں افغانستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر، انٹیلی جنس ادارے ’این ڈی ایس‘ کے سربراہ معصوم استنکزئی، فوج کے سربراہ محمد شریف یفتالی اور وزیر داخلہ واعظ برمک بھی شامل تھے۔
اس دورے میں افغان وفد نے پاکی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ سے بھی ملاقات کی تھی۔یاد رہے کہ افغان عوام اور حکومت اپنے ملک کی خانہ جنگی اور حالیہ بدامنی میں جو کہ گزشتہ چار عشروں سے جاری ہے اس میں وہ اس کا برائے راست زمہدار پاکستانی حکومت ،فوج اور خصوصا آئی ایس آئی کو سمجھتے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں ریا ستی سطح پر تمام مزہبی دہشتگرد تنظیموں خصوصا افغان طالبان و حقانی نیٹ ورک کو آئی ایس آئی مدد و معاونت کررہی ییں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز