پنجشنبه, مارچ 12, 2026
Homeخبریںپشتون قبائلی رہنما ملک نصیب خان کی لاش کے ساتھ جانی خیل...

پشتون قبائلی رہنما ملک نصیب خان کی لاش کے ساتھ جانی خیل میں دھرنا 16ویں روز میں داخل

جانی خیل(ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق پشتون علاقے جانی خیل میں قومی وطن پارٹی کے رہنماء ملک نصیب خان وزیر کی میت کی تدفین تاحال نہیں کی گئی ہے ۔ پشتون قبائلی رہنما کی قاتلوں کی گرفتاری کے لیے جانی خیل میں گذشتہ 16 دنوں سے لوگ آرمی کیمپ کے سامنے لاش کے ساتھ دھرنا دے رہے ہیں لیکن اب تک قاتلوں کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔

میڈیا زرائع کے مطابق احتجاج کرنے والوں نے انتظامیہ کو کہیں بار کہا ہے کہ اگر انھیں انصاف نہیں ملا تو مارچ کے مہینے میں شہید ہونے والے چار بچوں کی لاشوں کو بھی قبر سے نکال کر احتجاج کریں گے جن کے قاتل تاحال گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔

جانی خیل میں احتجاج کرنے والوں نے اسلام آباد کی طرف مارچ کا کرنے کا بھی اعلان کیا ہے لیکن اب تک اس بارے میں فیصلہ نہ ہوسکا ہے۔ پشتونوں کا قبیلہ جانی خیل نے دھرنے میں فیصلہ کیا ہے کہ انکے قبیلے کا کوئی شخص پاکستانی فوج سے تعاون نہیں کرے گا اگر کسی نے بھی پاکستانی فوج کے ساتھ کوئی واسطہ رکھا یا کوئی تعاون کیا تو اسے پچاس ہزار کا جرمانہ ادا کرنا پڑئے گا۔

ادھر پی ٹی ایم کے رہنماء منظور پشتین نے کہا ہے کہ وہ جانی خیل قبیلے کے احتجاج اور فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں.

یاد رہے جانی خیل قومی جرگہ میں شامل اور قوم پرست قومی وطن پارٹی کے رہنما ملک نصیب خان وزیر کو 30 مئی اتوار کی شام سرکاری حمایت یافتہ حملہ آوروں نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔جانی خیل قومی جرگہ میں شامل 60 سالہ ملک نصیب کو مسلح افراد نے جانی خیل کے گاؤں زندی علی خیل میں گولیاں مارکر قتل کردیا تھا۔ملک نصیب خان کو قتل کرنے کے بعد سرکاری حملہ آور ان کی کلاشنکوف موبائل فون اور نقد رقم لے کر فرار ہوگئے تھے۔

قتل ہونے والے ملک نصیب خان رواں سال مارچ میں علاقے میں بگڑتی ہوئی امن وامان کے صورتحال پر حکومت کے خلاف ہونے والے جانی خیل دھرنے کے سرکردہ رہنما تھے اور 28 مارچ کو قبائلی قومی جرگہ اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر انھوں نے بھی دستخط بھی کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز