چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںپنجگور میں ثقافتی پروگرام کو روکنا بلوچ ثقافتی نسل کشی ہے۔ دلمراد...

پنجگور میں ثقافتی پروگرام کو روکنا بلوچ ثقافتی نسل کشی ہے۔ دلمراد بلوچ

کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل موومنٹ کے سیکریٹری جنرل دلمراد بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پنجگور میں میوزک کنسرٹ کو روایات کے خلاف قرار دے کر روکنا ہمارے سالوں سے ان خدشات کو درست ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ پاکستان اپنے مذموم مقاصد کے لیے مذہب اور مذہب کے نام پر بنائے گئےمسلح جھتوں کو قومی تحریک کے خلاف استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ قابض ریاست مذہب کو بلوچ تہذیب و ثقافت، روایات اور بلوچ اقدار کومٹانے ، انھیں مسخ کرنے اور مٹانے کے لیے بروئے کار لا رہی ہے۔ پنجگور میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ وہاں فرقان الاسلام کے نام سے آئی ایس آئی کے پالے ہوئے کارندوں نے اسکولوں پر حملے کیے ہیں اور لڑکیوں کی تعلیم پر روک لگانے کی کوشش کی ہے۔

دلمراد بلوچ نے کہا کہ پنجگورمیں 24 ستمبر کو الطاف ساجد اکیڈمی کی جانب سے ایک میوزیکل ثقافتی پروگرام منعقد کیا جا رہا تھا جس کے خلاف علماء کے نام پر سرکاری مشینری اور ریاستی افواج کے آلہ کار ڈیتھ سکواڈ نے مداخلت کرکے میوزک کنسرٹ کو نہ صرف روک دیا بلکہ سرکاری کارندوں نے ایک دھمکی آمیز ویڈیو میں اسے غیرت پر حملہ قرار دیکر منتظمین کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

انھوں نے کہا اگر نام نہاد علماء اسلامی اور بلوچی روایات کی بات کرتے ہیں تو انھیں سب سے پہلے پاکستانی حیوانیت اور سفاکیت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے جو دن کی روشنی میں گھروں پر حملہ کرکے عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں اٹھا کر جبری لاپتہ کرتے ہیں۔ اگر وہ روایات کی ٹھیکیدار بنتے ہیں تو انھیں نورجان کی جبری گمشدگی اور ملک ناز جیسی معصوم خواتین کی شہادتوں پر رد عمل دکھانا چاہیے تھا۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ ان واقعات پر رد عمل نہیں دکھاتے کیونکہ یہاں ان کے آقاؤں کی دل آزاری ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ زبان، روایات اور ثقافت کو اجاگر کرنے میں موسیقی اور گلوکار اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں میڈیا پر بلوچ قوم، بلوچ تہذیب وثقافت سے متعلق کوئی معلومات اور آگاہی پروگرام نہ ہوں وہاں اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد ثقافتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انھیں روکنا کلچرل نسل کشی ہے۔ یہ پاکستان کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت مختلف طریقوں سے نسل کشی کی جارہی ہے۔

بی این ایم سیکریٹری جنرل نے کہا، ہم حقیقی علما کرام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچ نسل کشی ، بلوچ ثقافتی نسل کشی سمیت انسانیت کے خلاف جرائم پرپاکستان کے خلاف علماءحق کا کردار ادا کریں اورپاکستان کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بجائے بلوچ قومی تحریک کے دست و بازوبنیں۔ ہم خبردار کرتے ہیں، اگر قومی تحریک اور قومی ثقافت نہ رہے تو یہ ہماری قومی موت کے مترادف ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز