چائنا کی توسیع پسندانہ عزائم بلوچستان کی آزادی پر منتج ہو گی: بلوچ رہبر حیر بیار مری
تحریر۔ فرانسسکا مارینو
ترجمہ۔ آرچن بلوچ
فرسٹ پوسٹ پرنٹ کو انٹرویو دیتےہو ئے بلوچ رہنما حیربیارمری نے کہا ہے کہ چائنا کی توسیع پسندانہ پالیسی علاقائی رشتوں کو از سرنو طے کریگا۔
فرانسیسکار مارینو کے مطابق “بی ایل اے نے اس آپریشن کو ‘زرپہازگ’ کا نام دیاہے جو ۱۳ مئی کو ختم ہوا۔ بی ایل اے نے گوادر فائیو اسٹار ہوٹل پر پاکستانی فوج کے ساتھ چوبیس گھنٹے بندوقوں سے اس لڑائی کو بلوچستان اور اسکی معدنی وسائل کی لوٹ مارکے خلاف جنگ قراد دیا ہے۔ بی ایل اے نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اس نے چینیوں اور لوکل سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد کی موجودگی کی اطلاع کے بعد یہ آپریشن شروع کیا تھا جس کا مقصد استحصالی منصوبوں کے نمائندوں کو مارنا اور استحصال کی نشانی پی سی ہوٹل کو تباہ کرنا تھا۔
انکا دعویٰ ہے کہ انتشار کے شکار اس صوبائی ساحلی شہر کے ہوٹل کا گھیراؤ ختم ہونے تک پاکستانی فوج کے چالیس اہلکار مار دئیے گئے اور بی ایل اے کے چاروں فدائی شہید ہوگئے، جبکہ فوج کی طرف سے مارے جانے والوں کی پیش کی گئی تعداد انتہائی قلیل ہے جس کے مطابق ایک فوجی، ہوٹل کے چارملازمین اور بی ایل اے کے تین جانباز مارے گئے ہیں۔ بی ایل اے کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے پورٹ کو راکٹوں سے نقصان پہنچایا ہیں، اور ایک جاسوسی ڈرون کو بھی مار گرایا ہے”۔
بلوچ رہنما حیربیارمری کے مطابق اس تمام کو یکجاہ کرکے دیکھاجائے تو یہ سارا معاملہ، غیرارادی طور پر، بلوچستان کی آزادی پرمنتج ہوگی کیونکہ چائنا کی توسیع پسندی کی وجہ سے علاقائی توازن تبدیل ہوگا۔ ۵۱ سالہ بلوچ رہنما ایک آزاد ملک کی ویژن اور پلان ’بلوچستان لبریشن چارٹر‘ کے ساتھ سامنے آچکا ہے اور انکی کوشش ہے کہ تمام منتشرگروہوں کو یکجاہ کرے۔
مری ، جسے پاکستان نے دھشت گرد قراد دیا ہے، اعتمادکے ساتھ کہتا ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان بلوچستان کی حریت پسندوں کی قیادت کررہے ہیں، وہ قابض کو ملک سے باہر نکال دینگے، انکی جہد کی ایک جائز حیثیت ہے۔فرسٹ پوسٹ کو ایمیل کے زریعے انٹریو دیتے ہوے جناب مری نے کہا کہ ’’عالمی قانون جبری قبضہ و قابض کے بارے میں بلکل واضح ہے۔۱۹۵۴ کے بعد کی دنیا کے عالمی قوانین، یو این چارٹر، جنیوا کنونشن جبر ی انضمام کو غیرقانونی عمل قرار دیتے ہیں۔ اگرکسی ملک پر قبضہ کیا گیا ہےاور قبضہ گیر نوآبادیاتی اور نسل کشی جیسے گھناؤنے حرکات میں مصروف ہیں تو یہ مقبوضہ قوم کا قدرتی اور قانونی حق بنتاہے کہ وہ اپنی وجود کا دفاع کرے‘‘ ۔ بلوچ رہنما کا کہنا ہے کہ ’’اپنی آزادی کو واپس لینے کیلیے پولش مزاحمتی جنگجووں نے سویت اور نازی توسیع پسندوں کے خلاف جنگ لڑی۔ فرانسیسیوں نے بھی نازی جرمنی کے خلاف اپنی آزادی کیلئے جنگ لڑی۔ یہی اصول اور یہی تصور بھی بلوچستان اور بلوچ کیلئے لاگو ہونگے۔ کوئی بھی گوریلا جنگ فسطائی قابض قوت اورکالونیل قوت کے خلاف ہو، وہ قانون اور انصاف پر مبنی ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ مقبوضہ قوت جنگ اور تصادم کے قوانین کا احترام کرے‘‘۔
لیڈروں کی ایک مکمل نسل کے گزرجانے کے بعد بلوچ انسرجنسی لگ رہاہے کہ کمزور ہوتا جا رہا ہے، مری کی چارٹر ایک ایسی کوشش ہے کہ چیزوں کو پھر سے صحیح ڈگر پر ڈال دیا جائے، اور ایک متحدہ قومی جہد کا اجرا کرے۔ حیربیار مری جو فری بلوچستان موومنٹ کی رہنمائی کر رہے ہیں چارٹر کے بارے میں کہتےہیں کہ ’’ یہ ایک آئین تو نہیں لیکن ایک روڈ میپ اور عوام کے ساتھ ایک عمرانی معاہدہ ضرور ہے کہ وہ کس طرح کا ایک مستقبل چاہتے ہیں۔ انکا مزید کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی برادری کیلئے بھی ایک پیغام ہے کہ آزاد بلوچستان کی جہد کا مقصد و مراد اور خدوحال کیا ہوگی‘‘ ۔
انہوں نے چارٹر کودوسرے تمام پارٹی سربراہان اور جلا وطن رہنماؤں کے ساتھ شیئر کیا ہے انکے مطابق یہ ڈاکومنٹ بحث مباحثے اور ترمیم کیلئے کھلا ہے، تاہم دو اصول ناقابل بحث ہیں: پہلا اصول، کوئی بھی پارٹی قابض کی حیثیت کوقبول نہیں کریگی اور نہ ہی انکے نظام سیاست میں حصہ لیگی۔ دوسرا اصول یہ کہ ایک آدمی ایک ووٹ، یعنی کوئی اعلیٰ نہیں، سب برابری کی بنیاد کے شہری ہیں۔
حیربیارمری جو 1999 سے لندن میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں کا کہنا ہے کہ “چارٹر ایک ایسی کوشش ہے جس سے یہ بات یقینی بنانا ہے کہ بلوچستان ان تمام لوگوں سے تعلق رکھتا ہے جو وہاں رہتے ہیں۔ بلاامتیاز رنگ، قوم، مذہب، اور سیاسی پس منظر کے اس آزاد ریاست میں ہر فرد کو برابر حقوق اور تحفظ ملے گا”۔
انھیں بلوچستان اس لیے چھوڑنا پڑا کیونکہ اس نے بحیثیت بلوچستان کی وزیر روڈ اور کمیونی کیشن پاکستان سے وفاداری کا حلف لینے سے انکار کردیا تھا، اور مئی ۱۹۹۸ میں پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں جو نیوکلیئر ٹیسٹ کیے، انکے خلاف اس نے پُرزور احتجاج کیا تھا۔ 1970 کی تحریک آزادی کے مشہور بلوچ رہنما نواب خیربخش مری کا پانچواں بیٹا حیربیارمری کو ان کے ساتھی ایک ‘ویژنری’ رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
اسے اچھی خاصی عوامی حمایت حاصل ہے، افسانوی اس حقیقت پر کہ وہ ایک تنہا پسند آدمی ہے۔ برصغیر کے دوسرے لوگوں کے برعکس، شاذ و نادر ہی وہ لوگوں یا صحافیوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ سیکورٹی وجوہات کے سبب لندن میں گھومتے پھرتے نہیں۔
لیکن برطانیہ کا دارالخلافہ لندن پناہ کی وہ جگہ نہیں جو وہ چاہتے تھے، دسمبر 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے بے بنیاد الزامات کی بنیاد پراسے لندن میں گرفتار کیا گیا۔ 2009 میں برطانیہ کی ایک عدالت نے اسے تمام الزامات سے بری کردیا تھا۔ گزشتہ کئی سالوں سے جلاوطن مری اور دوسرے بلوچ سیاسی رہنما یہ کوشش کررہے ہیں کہ انکی تحریک کو اقوام عالم کی حمایت حاصل ہو۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارم سے ان تمام انسانی حقوق اور نسل کشی جیسے مسائل، جن کا بلوچ قوم کو سامنا ہے، کو اقوام عالم کے سامنے اجاگر کیا ہے، لیکن ہمدردی کم پائی ہے۔لیکن مری بہت پُراعتماد ہیں، انکے مطابق ’’علاقائی سیکیورٹی کے محرکات تبدیل ہو رہے ہیں، میں یقین سے تو کہہ نہیں سکتا کہ کونسا ملک بلوچستان کو سپورٹ دیگا لیکن مستقبل کی علاقائی صف بندیوں میں چائنا سب سے بڑا فیکٹر ہوگا۔ بلوچستان کی ساحلی علاقوں میں چائنا ملٹری بیس تعمیر کرتےہوئے انڈیا کے خلاف گھیرا تنگ کر رہا ہے۔ اس خطے کی سیکیورٹی میں دلچسپی رکھنے والے ممالک امریکہ، انڈیا اور دوسرے ممکن ہے کہ بلوچستان کی آزادی کی تحریک کو سپورٹ دیں تاکہ یہاں کی علاقائی سیکیورٹی مستحکم ہوسکے‘‘۔
اسلام آباد، جو حیربیار مری کی حوالگی کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے کہتا ہے کہ وہ بلوچستان میں سرگرم ان تمام گوریلا گروپوں کا سربراہ ہے جنہوں نے نومبر میں کراچی میں چائنا کے کونسل خانے پر حملہ کیا تھا۔
ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مری کہتا ہے کہ ’’آزادی پسند جنگجو بلوچ سماج کےجزولاینفک ہیں اور وہ بلوچ اقدار و اخلاقیات کے امین اور بین الاقوامی قوانین کے پابند ہیں انہوں نے غیروں کی یلغار کے خلاف اپنے ملک اور قوم کی تحفظ کیلئے سخت ترین ذمہ داری کا بیڑا اٹھایا ہے‘‘۔ ان کے پیش کردہ چارٹر کے مطابق آزادی پسند گوریلا جنگجو آگے جاکر خودمختار و آزاد بلوچستان کی فوج کو تشکیل دینگے۔حیربیار مری کا کہنا ہے کہ تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان آزادی پسند جنگجوؤں کی رہنمائی کر رہے ہیں اور ایسا کیسے ممکن ہے کہ بغیر کسی لیڈر کے ایک تحریک بیس سال تک اپنی وجود کو برقرار رکھ سکے؟ سیکیورٹی کے تقاضوں کے مطابق انکی لیڈرشپ مخفی ہیں ۔ قبضہ گیر اور نوآبادکاروں کے چنگل سے بلوچستان کو آزاد کراتے ہوئے اپنی منزل پانے کے بعد دنیا کے سامنے وہ اپنی شناخت کرائینگے، اور وہ دن دور بھی نہیں جب وہ قبضہ گیروں کو اپنے وطن سے نکال دینگے، انکی جدوجہد کی ایک جائز حیثیت ہے۔
https://www.firstpost.com/world/china-may-end-up-helping-baloch-freedom-war-6649711.html


